تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 331
کے ساتھ ناروا سلوک کر کے انہیں دکھ پہنچائو گے یا ناواجب پیار کر کے انہیں خراب کرو گے تو دونوں صورتوں میں خدا تعالیٰ کے سامنے تم جواب دہ ہو گے۔وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ایسا حکم دے دیتا جس کے نتیجہ میں تمہیں تکلیف ہوتی یعنی وہ کہہ دیتا کہ یتامیٰ کا مال بھی الگ رکھو اور ان کا خرچ بھی برداشت کرو۔لیکن اس نے رحم سے کام لیا اور تمہاری سہولت کو اس نے مدنظر رکھا اس سہولت کا یہ نتیجہ نہیں نکلنا چاہیے کہ تم یتامیٰ کی تربیت کا خیال نہ رکھویا ان کے اموال کو غصب کرنے کی کوشش کرو۔اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔اس میں عزیز اور حکیم کی صفات کا ذکر کر کے پھر دو امور کی طرف توجہ دلائی ایک طرف تو اس امر کی طرف کہ یتیم میں طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے حقوق دوسروں سے لے سکے۔اس کے متعلق فرمایا کہ اگر وہ عَزِیْز نہیں تو خدا تعالیٰ تو عزیز اور غالب ہے جس طرح تم یتیم پر غالب ہو تمہارے اوپر بھی کوئی غالب ہستی ہے۔اگر تم اس کے حقوق کو تلف کرو گے یا ناجائز سختی اوردبائو سے کام لو گے یا اس کا مال کھائو گے تو خدا تعالیٰ تمہیں پکڑے گا پھر فرمایا تھا کہ یتیم سے نرمی کرو اور اس کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا لو۔اس کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے تمہیں بھی حکمت سے کام لینا چاہیے اور جس بات میں فائدہ ہو وہی اختیار کرنی چاہیے۔ترتیب وربط اوپر کی آیات کے ساتھ ان آیات کا ربط یہ ہے کہ جنگ کے احکام کے سلسلہ میں قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ اس کے نتیجہ میں بہت لوگ شہید ہو جائیں گے اور ان کے بچے یتیم رہ جائیں گے ایسی صورت میں ان سے کیا سلوک کیا جائے؟ اللہ تعالیٰ نے زیر تفسیر آیات میں اس سوال کا جواب دے دیا اور اس طرح تمام مضمون ایک لڑی میں پرو دیا۔درحقیقت قرآنی مضامین کی ترتیب عام کتب کی ترتیب کے مطابق نہیں بلکہ طبعی ترتیب ہے وہ اپنے مضامین میں جو ترتیب رکھتا ہے وہ اس ترتیب سے علیٰحدہ ہے جو انسان اپنی کتابوں میں رکھتے ہیں۔قرآن کریم اس چیز کو جو سب سے پہلے بیان ہونی ضروری ہو بیان کرتا ہے اور پھر اس کے متعلق انسانی قلب میں پیدا ہونےوالے تمام وساوس اور شبہات کا ازالہ کرتا ہے۔مثلاً جنگ ہے اس کے متعلق جو سوال پیدا ہوںگے ان کو بیان کرےگا پھر ان سے جو سوال پیدا ہوگا اس کا ذکر کرے گا اور اس میں جن امور کی طرف انسانی ذہن منتقل ہو گا وہ بیان کرتا چلا جائے گا اور چونکہ ایسے سوالات طبعی ہوتے ہیں اس لئے ان کے جوابات کا قلوب پر خاص اثر پڑتا ہے اسی طبعی ترتیب سے اس جگہ بھی کام لیا گیا ہے۔چنانچہ جنگ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کا ذکر کر دیا جو جنگ سے براہ راست تعلق رکھنے والی چیزیں تھیں اور جب جُوئے سے اخراجات جنگ پورے