تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 283
وجہ سے کہ مسلمانوں کو بھی جنّت کا حقدار بنا دیا گیا ہے۔گویا ایک تو بغاوت اور دوسرے حسد کی وجہ سے انہوں نے ایسا کیا۔اپنا ذاتی فائدہ مدنظر نہ رکھا اور سودا فسخ کر دیا۔دوم۔اِشْتَریٰ کے معنے اگربیچنے کے لئے جائیں تو کسی چیز کے بدلے میں اپنی جانوں کو بیچنے کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ انسان اُس میں منہمک ہو جائے۔اس صورت میںبِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ کے یہ معنے ہونگے۔کہ وہ چیز جس کے ساتھ انہوں نے اپنی جانوں کو بیچا ہے۔بہت بُری ہے۔یعنی کفر۔کفر کے لئے اپنے آپ کو فروخت کردینا درحقیقت ایک محاورہ ہے بدی میں مبتلا ہو جانے کا۔اردو زبان میں بھی کہتے ہیں۔کہ تم فلاں بات میں ہی لگ گئے ہو۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ کفر میں ہی منہمک ہو چکے ہیں اور اِن کی کفر میں ترقی کی بڑی وجہ یہ حسد ہے کہ نبوت ہمیں کیوں نہیں ملی۔مسلمانوں کو کیوں مل گئی ہے۔غرض یہاں اِشْتَریٰ کے دونوں معنے چسپاں ہو سکتے ہیں خریدنے کے بھی اور بیچنے کے بھی۔فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍمیں بتایا کہ یہود خدا تعالیٰ کے متواتر غضب کو لے کر اس طرح بن گئے کہ گویا خدا تعالیٰ کا غضب انہیں کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ! سورۃ فاتحہ میں جو مغضوب اور ضالین کا ذکر آتا ہے اس میں مغضوب سے کون لوگ مراد ہیں۔تو آپؐ نے فرمایا۔یہود۔(ترمذی ابواب التفسیروفتح البیان زیر آیت ۷ سورۃ الفاتحہ) اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ متواتر اللہ تعالیٰ کے انبیاء کا مقابلہ کرتے رہے اور غضب الٰہی کے مورد بن گئے۔بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ کے الفاظ اس لئے استعمال کئے گئے ہیں کہ ایک دفعہ تو یہود حضرت مسیحؑ کا انکار کر کے خدا تعالیٰ کے غضب کا مورد بنے تھے اور دوسری دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا انکار کر کے وہ اُس کے غضب کا مورد بنے گویا دوہرے طور پر وہ غضبِ الٰہی کامورد بن گئے۔وَ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ میں بتایا کہ حسد کرنے والے آخر میں ضرور رُسوا ہوتے ہیں۔اگر دیانتدار ی سے کسی مذہب کی مخالفت ہو تو وہ ایک علیحدہ امر ہے لیکن یہود کو اپنی کتاب کی پیشگوئیاں دیکھ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صداقت کا علم ہو چکا تھا۔مگر اس کے باوجود وہ آپ کا انکار کرتے رہے۔اور جو شخص کسی صداقت کا عمداً انکار کرتا ہے وہ یقینا رُسوا ہو تا ہے بلکہ اگر بعد میں وہ مان بھی لے تب بھی لوگ اسے رُسوا کرتے ہیں کہ اِس نے انکار کرکے مان لیا۔