تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 284

مُّسْتَقِيْمٍ۰۰۲۱۴ اللہ جسے پسندکرتا ہے سیدھی راہ پر چلادیتا ہے۔تفسیر۔اس آیت کے متعلق بہت کچھ اختلاف پایا جاتا ہے اور لوگ حیران ہوتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ آیا یہ کہ لوگ ایک اُمت تھے یعنی سب نیک تھے پھر نبی آئے اور اختلاف ہو گیا۔یا یہ کہ لوگ بدتھے اورپھر نبی آئے۔میرے نزدیک اس کے یہی معنے ہیں کہ لوگ بد تھے اور نبی آئے۔اس کی دلیل قرآن کریم سے تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ نبی لوگوں کی خرابی پر ہی بھیجتا ہے خود اس آیت سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ لوگ بد تھے۔کیونکہ فرمایا مُبَشِّرِيْنَ وَ مُنْذِرِيْنَ۔نبی بشارتیں اور انذار لے کر آئے اور انذار کا ساتھ ہونا بتاتا ہے کہ خدا سے دور لوگ موجود تھے۔دوسرا ثبوت اسی آیت سے یہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيْمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ۔وہ نبی اس لئے آئے کہ جس بات میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا اس میں فیصلہ کریں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسائل کے متعلق اختلاف موجو دتھا پس یہ بھی دلیل ہے کہ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً سے یہ مراد نہیں کہ لوگ نیک تھے۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً کیوں کہا؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث میں آتا ہے کہ اَلْکُفْرُمِلَّۃٌ وَاحِدَۃٌ کُفر بھی ایک ہی ملّت ہے۔یعنی اصل الاصول کفر کا یہی ہے کہ خدا سے لوگوں کو دور کیا جائے جس طرح اسلام بھی ملّتِ واحدہ ہے۔یعنی سب اسلامی اُمتیں ایک ہیں۔کیونکہ ان کے اصول ایک ہیں۔گو تفصیلِ شرائع میں اختلاف ہو۔پس ملت ِواحدہ کہنے سے مراد ان کا اتفاق یا باہمی محبت بتانا مدِّنظر نہیں بلکہ یہ مدِّ نظر ہے کہ سب کافر ہی کافر تھے نیک لوگ ان میں نہ تھے کیونکہ کفر کے مقابلہ میں دوسری جماعت در حقیقت مومنوں کی ہی ہوتی ہے۔کافر آپس میں خواہ کتنے ہی مختلف الخیال ہوں پھر بھی اصل غرض جو خدا کا قرب پانا ہے اس کے متعلق سب کا ایک ہی رویہ ہوتا ہے اور سب اپنے اپنے دائرہ میں ایک ہی کام کر رہے ہوتے ہیں یعنی خدا سے لوگوں کو دور کردینا۔یا یہ کہ کَانَ کے معنے ’’تھے‘‘ کے نہیں بلکہ ’’ہیں ‘‘ کے ہیں۔اور اس کا یہ مطلب ہے کہ انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے اُمَّۃٌ وَاحِدَۃٌ بنایا ہے۔یعنی دوسرے حیوانات بھی اُمت ہیں مگر امت ِ واحدہ نہیں ہیں۔انسان مدنی الطبع ہے اور اس کو آپس میں مل کر رہنا پڑتا ہے اور اس کا لازمی نتیجہ اختلاف اور شقاق پیدا ہونا ہے۔بڑی نعمت کےساتھ بڑے خطرات بھی ہوتے ہیں کیونکہ ایک دوسرے کی بدیاںبھی انسان اخذ کر تا ہے۔جب تمدن کے یہ نقائص بڑھ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نبی بھیجتا ہے جو اختلاف کو دور کر دیں اور ملنے جلنے کی وجہ سے جو اختلاف پیدا ہو گیا ہے اور ضد کی وجہ