تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 282
کہ تم کو جو کچھ ملا ہے اس کے متعلق تو تم سے پوچھا جائے گا کہ کس کس طرح خرچ کیا ہے؟ لیکن ان کو اس طرح ملے گا کہ ان سے حساب بھی نہیں لیا جائےگا۔گویا تم کو تو ملازموں کی طرح ملا ہے اور تم اس میں خیانت کر کے سزا کے موردبنتے ہو۔لیکن ان کو ہدیہ کے طور پر ملےگا۔اور اس میں تصرف کا ان کو اختیار کامل ہو گا۔دراصل سلوک دو قسم کا ہوتا ہے ایک دوستانہ اور دوسرا ملازمانہ۔چونکہ دوستی میں غیریت باقی نہیں رہتی اس لئے فرمایا کہ ہم مومنوں کو بغیر حساب دیںگے اور ان سے ایسا سلوک کریں گے جو ایک دوست دوست سے کرتا ہے۔چنانچہ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا کہ میری امت میں سے ستّرہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوںگے (بخاری کتاب الرقاق باب یدخل الجنة سبعون الفا بغیر حساب) لیکن جس کے ساتھ غیریت کا معاملہ ہو اس سے سختی کے ساتھ حساب لیا جاتا ہے اور حساب ہی کے مطابق اسے معاوضہ دیا جاتا ہے۔اسی لئے قرآن کریم میں کفار کے متعلق یہ الفاظ کہیں استعمال نہیں ہوئے کہ انہیں بغیر حساب دیا جائےگا۔بلکہ ان کے متعلق جہاں بھی آیا ہے یہی آیا ہے کہ وَاللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک دفعہ فرمایا مَنْ نُوْقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ یعنی وہ شخص جس کا سختی سے حساب لیا گیا وہ تباہ ہوا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سنی تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ کیا قرآن میں یہ نہیں آتا کہ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرً ا (الانشقاق:۹) اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ مومنوں کا بھی حساب ہو گا۔آپ نے فرمایا حساب سے مراد یہ ہے کہ پوری طرح حساب لیا جائے ورنہ مومن کا حساب تو محض سرسری ہو گا (بخاری کتاب الرقاق باب من نوقش الحساب عذب) پس مومنوں کو جو کچھ ملے گا بغیر حساب کے ہی ملے گا۔اسی طرح بغیر حساب کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ختم ہونے والا انعام ملے گا۔اور چونکہ یہ آیت اس دنیا کے غلبہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اس لئے وَ اللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ان کی قربانیوں سے بہت زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی غلامی میں اس دنیا میں جو کچھ ملا وہ بے حساب ہی ملا۔بے شک ان کی قربانیوں کی چمک بھی آنکھوں کو خیرہ کرنے والی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے جو انہیں دینی اور دنیوی رنگ میں غیر معمولی اجر عطا فرمایا وہ ان کی قربانیوں سے بہت زیادہ تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو مادی رنگ میں انہیں تختِ شاہی پر بٹھا دیا اور دوسری طرف روحانی رنگ میں انہیں ایسی برکات سے نوازا کہ رَضِیَ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ (التوبة:۱۰۰) کا دائمی سرٹیفکیٹ انہیں حاصل ہو گیا۔