تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 260
طرف اشارہ فرمایا ہے کہ تمہارا خدا تعالیٰ سے اب ایک روحانی پیوند قائم ہو چکا ہے۔پس جس طرح ایک بچہ اپنے ماں باپ کے سایہ عاطفت میں اپنی زندگی کے دن بسر کرتا ہے اور ان کے اخلاق و عادات اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اس طرح تم بھی خدا تعالیٰ کی صفات کا آئینہ بنو اور اسی کے سایہ عاطفت میں اپنی زندگی کے دن بسر کرو۔پھر فرماتا ہے اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًا ہم نے پہلے تو تمہیں یہ ہدایت دی ہے کہ تم خدا تعالیٰ کو اس طرح یاد کرو جس طرح تم اپنے باپ دادوں کو یاد کرتے ہو۔مگر ہمارا یہ حکم صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو روحانیت میں ابھی اعلیٰ مقام پر نہیں پہنچے ورنہ جو لوگ اپنے ماں باپ کی محبت میں بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کا ہاتھ پوشیدہ دیکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں ماں باپ کے تعلق کو بالکل ہیچ سمجھتے ہیں۔ان کو چاہیے کہ وہ خدا تعالیٰ کا ایسے رنگ میں ذکر کریں کہ ان کے دنیوی تعلقات میں اس کی کوئی مثال دکھائی نہ دے اور ماںباپ کا ذکر اس کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہو جائے۔فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا وَ مَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ۔فرماتا ہے بعض لوگ ایسے ہیں جو خدا تعالیٰ سے صرف دنیا ہی مانگتے ہیں۔جیسے عیسائی ہیں۔وہ یہی دعا کرتے ہیں کہ ’’ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے‘‘(متی باب۶ آیت ۱۱) انہیں حرام و حلال سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔انہیں کسی چیز کے مفید یا مضر ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ان کا مطمح نظر محض دنیا طلبی ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا کے ساتھ حَسَنَۃً کا لفظ استعمال نہیں کیا۔جس میں یہ اشارہ ہے کہ ایسے لوگ صرف دنیا پر جان دیتے ہیں حالانکہ خالی دنیوی عزت جس کے ساتھ اخروی عزت نہ ہو ایک لعنت ہوتی ہے۔جیسے یہود کو آجکل خالی دنیوی عزت ملی ہوئی ہے۔اسی طرح عیسائیوں کو صرف دنیوی عزت ملی ہوئی ہے مگر اُخروی عزت سے انہیں کوئی حصہ نہیں ملا۔اسی لئے فرمایا کہ وَ مَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔یعنی ہم انہیں دنیا تو دے دیتے ہیں مگر اُخروی انعامات میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔لیکن دوسری طرف خالی اُخروی عزت بھی ایک بے ثبوت چیزہوتی ہے۔ثبوت والی چیز وہی ہوتی ہے جس میں دین اور دنیا دونوں اکٹھے ملیں۔اسی لئے فرمایا کہ ایک اور گروہ ایسا ہے جو یہ دعا کرتا رہتا ہے کہ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ یعنی الٰہی! ہمیں دنیا میں بھی عزت بخش اور آخرت میں بھی ہمارے مقام کو بلندکر۔اگر ہمیں دنیا ملے تو ہم اسے اپنی ذات کے لئے استعمال نہ کریں بلکہ تیرے دین کی شوکت ظاہر کرنے کےلئے استعمال کریں اور تیری رضا اور خوشنودی کے لئے اُسے صرف کریں۔اگر ایسا ہو تو پھر انسان کو دنیا میں بھی عزت ملتی ہے اور خدا تعالیٰ کے حضور بھی اس کا مرتبہ بڑھتا ہے۔یہ دُعا جو اسلام نے ہمیں سکھائی