تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 259

سے فارغ ہو جاتے تو تین دن منیٰ میں مجالس منعقد کر کے اپنے باپ دادوں کے کارنامے بیان کرتے اور اپنے اپنے قبیلہ کی بہادری شہرت اور سخاوت کی تعریف میں قصیدے پڑھتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ لوگ تو اپنے باپ دادوں کی تعریف میں قصائد پڑھا کرتے تھے مگر ہم تمہیں یہ ہدایت دیتے ہیں کہ جب تم مناسک حج کو ادا کر چکو تو تم خدا تعالیٰ کو اس طرح یاد کرو جیسے تم اپنے باپ دادوں کو یاد کرتے ہو۔یعنی جس طرح ایک چھوٹا بچہ جو اپنی ماں سے جدا ہوتا ہے روتا اور چلّاتا ہوا کہتا ہے کہ میں نے اپنی اماں کے پاس جانا ہے اسی طرح تم بھی بار بار خدا تعالیٰ کا ذکر کرو تاکہ اس کی محبت تمہارے رگ و ریشہ میں سرایت کر جائے۔خدا تعالیٰ ایک وراء الوراء ہستی ہے اس کا حسن براہ راست انسان کے سامنے نہیں آتا بلکہ کئی واسطوں کے ذریعہ سے آتا ہے۔اگر اُس کے حسن کو الفاظ میں بیان کیا جائے اور پھر ہم اس پر غور کریں اور سوچیں تو آہستہ آہستہ معنوی طور پر اس کی شکل ہمارے سامنے آجاتی ہے۔اگر تم مالک کا نام لو اور اس کی مالکیت کو ذہن میں لائو۔قدوس کا نام لو اور اس کی قدوسیت کو ذہن میں لاؤ۔ستّار کا نام لو اور اس کی ستاریت کو ذہن میں لائو۔غفور کانام لو اور اس کی غفوریت کو ذہن میں لائو تو یہ لازمی بات ہے کہ آہستہ آہستہ خدا تعالیٰ کی ایک مکمل تصویر تمہارے سامنے آجائےگی۔اور محبت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ یا تو کسی کا وجود سامنے ہویا اس کی تصویر سامنے ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ایک شعر میں اسی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔؎ دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی حسن و جمال یار کے آثار ہی سہی یعنی اگر محبوب خود سامنے نہیں آتا تو اس کی آواز تو سنائی دے اور اس کے حُسن کی کوئی نشانی تو نظر آئے۔پس ربّ، رحمٰن ، رحیم، مالک یوم الدین، ستار، غفار، قدوس، مہیمن، سلام، جبار، قہار اور دوسری صفاتِ الٰہیہ کو جب ہم اپنے ذہن میں بٹھا لیتے ہیں تو خدا تعالیٰ کی ایک تصویر ہمارے سامنے آجاتی ہے اور اس کے نتیجہ میں ہمارے دلوں میں اس کی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔غرض صفاتِ الٰہیہ کے باربار دُہرانے اور تواتر سے دُہرانے کے نتیجہ میں چونکہ خدا تعالیٰ کی ایک تصویر بنتی ہے اور اس تصویر کی وجہ سے ہی ہمارے دل میں محبت پیدا ہوتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح بچوں کے دل میں اپنے ماں باپ کی ملاقات کا اشتیاق ہوتا ہے۔اسی طرح تمہارابھی خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسا ہی روحانی تعلق ہونا چاہیے۔گویا تمہارا چین اور تمہارا آرام صرف خدا تعالیٰ کے ساتھ ہی وابستہ ہونا چاہیے کیونکہ اسی پر تمہاری روحانی زندگی کا مدار ہے۔اور حج کے بعد ذکر الہٰی کی طرف توجہ دلا کر اس