تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 261

ہے بظاہر بہت چھوٹی سی دعا ہے لیکن ہر قسم کی انسانی ضرورتوں پر حاوی ہے۔انسان کہتا ہے رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً اے ہمارے رب !ہم کو اس دنیا میں حسنہ دے۔بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے حسنہ کا جو لفظ استعمال فرمایا ہے یہ درست نہیں۔حسنات کا لفظ استعمال کرنا چاہیے تھا جس کے معنے بہت سی نیکیوں کے ہیں مگر یہ اعتراض عربی زبان سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اگر یہاں حسنات کا لفظ ہوتا تو اس کے معنے یہ ہوتے کہ ہمیں کچھ اچھی چیزیں ملیں لیکن حسنہ کے یہ معنے ہیں کہ ہمیں جو کچھ ملے خیر ہی ملے۔پس رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةًکے یہ معنے ہیں کہ اے ہمارے رب! دنیا میں ہم کو جو کچھ دے حسنہ دے۔روٹی دے تو حلال ہو طیب ہو، پچنے والی ہو۔کپڑا دے تو حلال دے طیّب دے، ضرورت کے مطابق دے، ننگ ڈھانکنے والا دے، پسندیدہ دے، بیوی دے تو ایسی دے جو ہمدرد ہو ہم خیال ہو دیندار ہو محبت کرنے والی ہو، نیکی میں تعاون کرنے والی ہو، بچے پیدا کرنے والی ہو،ان بچوں کی نیک تربیت کرنے والی ہو، مکان دے تو مبارک ہو، وہ بیماریوں والا گھر نہ ہو، سل دق اور ٹائیفائیڈ کے جراثیم اس میں نہ ہوں، کوئی چیز ایسی نہ ہو جو صحت پر بُرا اثر کرنے والی ہو، کوئی ہمسایہ ایسا نہ ہو جو دکھ دینے والا ہو، وہ ایسے محلہ میں نہ ہو جہاں کے رہنے والے بُرے ہوں، وہ ایسے شہر میں نہ ہو جسے تو میرے لئے اچھا نہ سمجھتا ہو، ہمیں حاکم دے تو ایسے دے جو رحم د ل ہوں، تقویٰ سے کام لینے والے ہوں، انصاف سے کام لینے والے ہوں، ماتحتوں سے محبت کرنے والے ہوں ، ہمیں اُستاد دے تو ایسے دے جو علم رکھنے والے اور اچھا پڑھانے والے ہوں، وہ شوق سے پڑھائیں وہ ظالم نہ ہوں، خرابیاں پیدا کرنے والے اور دوسروں کو ورغلانے والے نہ ہوں، دوست دے تو ایسے دے جو خیرخواہ ہوں،محبت کرنے والے ہوں، مصیبت میں کام آنے والے ہوں، خوشی میں شریک ہونے والے ہوں، دکھوں میں ہاتھ بٹانے والے ہوں، غرض رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً اے ہمارے رب! دنیا میں ہم کو وہ چیز دے جو حسنہ ہو۔پس یہاں حسنات کی بجائے حسنہ کا لفظ رکھ کر اس کے مفہوم کو خدا تعالیٰ نے وسیع کر دیا ہے۔اور جب مومن یہ دعا کرتا ہے تو دوسرے الفاظ میں وہ یہ کہتا ہے کہ خدایا !مجھے ہر وہ چیز دے جو میری ضرورت کے مطابق ہو اور پھر وہ چیز ایسی ہو جو نہایت اچھی ہو مگر اچھی چیزکے لئے اور الفاظ بھی استعمال ہو سکتے تھے۔خدا تعالیٰ نے وہ الفاظ استعمال نہیں کئے بلکہ حسنہ کا لفظ استعمال کیا ہے اس لئے یہ لفظ ظاہری اور باطنی دونوں خوبیوں پر دلالت کرتا ہے ہوسکتا ہے کہ ایک چیز اپنے فوائد اور خوبیوں کے لحاظ سے اچھی ہو مگر ظاہری صورت کے لحاظ سے اچھی نہ ہو۔مثلاً کسی شخص کی بیوی بڑی بااخلاق ہو۔مگر فرض کرو وہ نکٹی ہے یا اندھی ہے یا بہری ہے تو وہ حسنہ نہیں کہلائےگی حسنہ وہی بیوی کہلائےگی جس کے اخلاق بھی اچھے ہوں شکل بھی اچھی ہو ظاہر بھی اچھا ہو