تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 246
حاجی کو روکا گیا ہو اور وہ قربانی آگے بھجوا سکتا ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ قربانی کے حرم پہنچنے تک سر نہ منڈوائے اور کوشش کرے کہ وہ حرم کے اندر ہی ذبح ہو۔اس کے بعد حلق کر دے۔ضمنی طور پر اس آیت میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا تھا کہ ایک وقت آنے والا ہے جب مسلمانوں کو بیت اللہ کی زیارت سے جبراً روک دیا جائےگا لیکن اس کے بعداللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو کفار پر فتح عطا فرمائےگا اور وہ امن سے حج بیت اللہ کر سکیں گے۔چنانچہ صلح حُدیبیہ میں ایسا ہی ہوا۔باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم صرف طواف کی نیت سے تشریف لے گئے تھے۔قریش نے اطلاع ملنے پر چیتوں کی کھالیں پہن لیں اور اپنی بیویوں اور بچوں کو ساتھ لے لیا اور قسمیں کھائیں کہ وہ مر جائیں گے مگر آپؐ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیںگے۔آخر یہ معاہد ہ طے پایا کہ اس سال مسلمان مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس چلے جائیں اور اگلے سال آکر طواف کر لیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور تمام صحابہؓ واپس چلے گئے مگر ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ مکہ فتح ہو گیا اور مسلمان آزادی کے ساتھ آنے جانے لگے۔فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ۔فرماتا ہے۔اگر کوئی شخص تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو جس کی وجہ سے اُسے سر منڈوانا پڑے۔جیسے اس کے سر میں جُوئیں پڑ جائیں یا پھوڑے نکل آئیں تو وہ سر منڈوا سکتا ہے۔مگر اس صورت میں اسے صیام یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دینا پڑے گا۔قرآن کریم میں فدیہ کی تینوں اقسام کو غیر معین رکھا ہے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ایک ارشاد سے اس کی تعیین ہو جاتی ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ کعب بن عجرہؓ ایک صحابی تھے ان کے سر میں جُوئیں پڑ گئیں۔اور ان کی اتنی کثرت ہو گئی کہ جو ئیں ان کے منہ پر گرتی تھیں وہ کہتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا۔اے کعب! تجھے ان جوئوں کی وجہ سے بہت تکلیف ہے تو سر منڈوا دے اور صُمْ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ اَوْ اَطْعِمْ سِتَّۃَ مَسَاکِیْنَ اَوْ اُنْسُکْ بِشَاۃٍ۔تو فدیہ کے طور پر تین دن کے روزے رکھ لے چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا ایک بکری کی قربانی دے دے(مؤطا امام مالک کتاب الحج باب فدیۃ من حلق قبل ان ینحر)۔میرے نزدیک اس آیت میں جو فدیہ کی ترتیب ہے وہ امارت اور غربت کے لحاظ سے ہے۔یعنی اگر کوئی شخص غریب ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھ لے۔اگر متوسط درجہ کا ہو تو چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے اور اگر مالدار ہوتو قربانی دے دے۔بہر حال قربانی مقدم ہے اور اس کے بعد صدقہ ہے اور اس کے بعد روزے ہیں اور یہ ترتیب درجہ کی بلندی کے لحاظ سے ہے۔یعنی ادنی ٰ فدیہ یہ ہے کہ تین دن کے روزے رکھے اس سے اعلیٰ فدیہ یہ ہے کہ