تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 247

چھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔اور اس سے اعلیٰ فدیہ یہ ہے کہ ایک قربانی دے دے۔اور یہ حکم محصرکے لئے نہیں بلکہ محصر اور غیر محصر دونوں کے لئے ہے۔محصر کا حکم مَحِلَّہُ تک ختم ہو گیا ہے۔فَاِذَا اَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ۔فرماتا ہے جب جنگ ختم ہو جائے یا دوسری روکاوٹیں دور ہو جائیں تو اس کے بعد جو شخص عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر فائدہ اُٹھائے اور قرِان یا تمتع کر ےتو جو قربانی بھی آسانی سے میسّر آسکے کر دے۔حج اور عمرہ کے الگ الگ ادا کرنے کا ذکر تو پہلے آچکا ہے۔اب دونوں اکٹھے ادا کرنے کا ذکر فرماتا ہے۔میرے نزدیک اس جگہ تمتع سے اصطلاحی تمتع مراد نہیں بلکہ قران اور تمتع دونوں مراد ہیں۔اور تمتع کے معنے لغوی ہیں فائدہ اٹھائے۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ مکہ مکرمہ میں لوگ چار رنگ میں جاتے ہیں۔اوّل صرف حج کے لئے۔دوم صرف عمرہ کے لئے۔سوم تمتع کے لئے۔چہارم قران کے لئے۔تمتع اور قران دونوں میں قربانی واجب ہے۔لیکن حج اور عمرہ میں نہیں۔اسی طرح عمرہ تو سال کےدوران میں ہر وقت ہو سکتا ہے اور حج سال میں صرف ایک ہی دفعہ مقررہ ایام میں ہو سکتاہے۔پس اگر کوئی شخص صرف عمرہ کے لئے جائے یا صرف حج کے لئے جائے اور عمرہ کی نیت نہ ہو تو یہ امر اس کے حالات پر منحصر ہے کہ وہ قربانی کرے یا نہ کرے۔لیکن قِران جس میں عمرہ اور حج دونوں کی نیت ہوتی ہےاس میں قربانی واجب ہوتی ہے۔قِران یہ ہے کہ اشہر الحج میں انسان میقات سے احرام باندھ کر حج اور عمرہ دونوں کی اکٹھی نیت کرے اور مکہ معظمہ پہنچ کر عمرہ کے احکام بجا لائے اور جب تک حج سے فارغ نہ ہو احرام نہ کھولے۔بعض کے نزدیک اس پر ایک سعی اور ایک طواف ہے اور بعض کے نزدیک دو طواف اور دو سعی۔اور جب لوٹنا چاہے تو طواف وداع کرے۔اس میں عمرہ کے بعد اس وقت تک احرام نہیں کھولا جاتا جب تک کہ حج نہ ہو جائے حج کرنے کے بعد احرام کھولا جاتاہے۔لیکن اگر تمتع کی نیت سے جائے تو اشہر الحج میں عمرہ کی نیت کر کے میقات سے احرام باندھے اور مکہ میں داخل ہو پہلے طواف کرے پھر سعی کرے۔پھر حلق یا قصر کرے اور جب عمرہ ہو چکے تو احرام کھول دے اور ذوالحج کی آٹھویں تاریخ کو حج کے لئے پھر نیا احرام باندھے اور حج کرے۔اس میں بھی قربانی واجب ہے۔اس میں عمرہ کرنےکے بعد احرام کھول دیا جاتا ہے اور حج کے لئے نئے سرے سے احرام باندھا جاتا ہے۔غرض قِران اور تمتع دونوں میں قربانی واجب ہے۔لیکن اکیلے عمرہ یا حج میں واجب نہیں بلکہ مستحبّ ہے۔اور اگر ان میں سے کسی کی نیت کر کے جائے اور کسی وجہ سے روکا جائے تو اس پر قربانی واجب ہو گی اور جب تک قربانی ذبح نہ ہو اس کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ سر نہ منڈوائے۔ہاں اگر قربانی مکہ مکرمہ میں بھیج سکتا ہو تو بھیج دے اور پھر جب