تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 245

کرے۔یہاں سے فارغ ہو کر قربانی کرے۔سر منڈوائے اور پھر اسی دن شام تک یا اگلے دن مکہ مکرمہ جا کر خانہ کعبہ کا طواف کرے۔افضل یہ ہے کہ اسی دن شام تک جا کر کعبہ کا طواف کر آئے۔پھر دوسرے دن منیٰ میں واپس آجائے۔اور بعد زوال جمرۃ الدنیا۔جمرۃ الوسطیٰ اور جمرۃ العقبہ پر سات سات پتھر مارے۔اسی طرح تیسرے دن اور پھر چوتھے دن بھی جو ایام تشریق کہلاتے ہیں یعنی گیارھویں بارھویں اور تیرھویں ذوالحج کو تیرھویں تاریخ کو منیٰ سے واپس آجائے اور بیت اللہ کا طواف الوداع کرے۔جو شخص یہ تمام مناسک بجا لائے وہ فریضہ حج ادا کر لیتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے حضور سر خرو ہو جاتا ہے۔عمر ہ بھی یہی ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص حرم کے اندر رہنے والا ہو تو وہ حرم سے اور اگر باہر کا ہو تو میقات سے احرام باندھے خانہ کعبہ کا سات مرتبہ طواف کرے۔صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرے اور پھر حلق یا قصر کر دے۔اور اگر قربانی کرنا چاہے تو قربانی بھی کر دے۔لیکن عمرہ میں قربانی لازمی نہیںہوتی۔حج اور عمرہ میں یہ فرق ہے کہ عمرہ کے لئے کسی خاص وقت یا مہینہ کی قید نہیں بلکہ وہ سال کے ہر حصہ میں ہو سکتا ہے جبکہ حج صرف شوال۔ذوالقعدہ اور ذوالحج میں ہی کیا جا سکتا ہے۔ترمذی میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کے متعلق پوچھا کہ اَوَاجِبَۃٌ ؟ کیا عمرہ واجب ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا لَا، وَ اَنْ تَعْتَمِرُوْ ا خَیْرٌ لَّکُمْ عمرہ واجب تو نہیں لیکن اگر تم عمرہ کرو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔(ترمذی کتاب الحج باب ما جاء فی العمرۃ أواجبۃ ھی او لا) فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ۔اس میں بتایا کہ اگر حج یا عمرہ کرنے والا کوئی شخص بیماری کی وجہ سے یا جنگ کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے راستہ میں ہی روک دیا جائے اور وہ مکہ مکرمہ جا کر حج یا عمرہ نہ کر سکے تو پھر جو قربانی بھی میسّر آئے اُسے دے دینی چاہیے اور اس وقت تک احرام نہیں کھولنا چاہیے جب تک کہ قربانی محلّہٗ نہ پہنچ جائے۔یعنی اس جگہ پر جہاں قربانی نے ذبح ہونا ہے۔ابن القاسم کا قول ہے کہ اگر قربانی ساتھ ہو تب قربانی دے ورنہ نہیں اور جمہور کا قول ہے کہ جس جگہ روکا جائے وہیں قربانی کر دے اور سر منڈوا ڈالے جو سب سے آخر ی عمل ہے اس کے بعد احرام کھول دیا جاتا ہے (بحر محیط زیر آیت ھذا) امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک بھی مَحِلَّہٗ سے مراد وہی جگہ ہے جہاں حاجی کو روک دیا گیا ہو۔لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک حرم ہے۔میرے نزدیک یہ جھگڑا فضول ہے کیونکہ اگر تو جنگ ہو اور دشمن نے اُسے روکا ہو تو وہ اس کی قربانی کو آگے کیسے جانے دےگا۔ایسی صورت میں وہ جہاں روکا جائے وہیں قربانی کر کے حلق کر دے لیکن اگر بیماری کے سبب سے