تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 243

نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ پھر جب تم امن میں آجاؤ۔تو اس وقت جو شخص عمرہ کا فائدہ (ایسے) حج کے ساتھ (ملا کر)اٹھائے فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ تو جو قربانی بھی آسانی سے مل سکے (کر دے) اور جو(کسی قربانی کی بھی توفیق) نہ پائے (اس پر)تین دن کے اَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ روزے تو حج (کے دنوں ) میں واجب ہو ں گے اور سات (روزے) جب (اے مسلمانو!) تم (اپنے گھروں کو) كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ واپس لوٹ آؤ۔یہ پورے دس ہوئے۔یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے پاس رہنے الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِؒ۰۰۱۹۷ والے نہ ہوں۔اور تم اللہ کا تقویٰ اختیارکرو اور سمجھ لو کہ اللہ کی سزا یقیناً سخت (ہوتی) ہے۔تفسیر۔یہاں سے حج اور عمرہ کے احکام کا آغازہوتا ہے۔حج اسلامی ارکان میں سے ایک اہم رُکن ہے۔اور ہر شخص جو بیت اللہ کا حج کرنا چاہے اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ میقات پر پہنچنے کے بعد احرام باندھ لے۔میقات ان مقامات کو کہتے ہیں جہاں پہنچنے پر اسلامی ہدایات کے مطابق حاجیوں کو احرام باندھنا پڑتا ہے۔مدینہ منورہ کی طرف سے آنے والوں کے لئے ذوالحلیفہ۔شام کی طرف سے آنے والوں کے لئے جُحفہ۔عراق کی طرف سے آنے والوں کے لئے ذات عرق۔نجد کی طرف سے آنےوالوں کے لئے قرن المنازل اور یمن کی طرف سے آنے والوں کے لئے یلملم میقات مقرر ہیں۔پاکستان سے جانے والوں کےلئے یلملم ہی میقات ہے اور حاجیوں کو جہاز میں ہی احرام باندھنا پڑتا ہے۔جو لوگ ان میقات کے اندر رہتے ہوں انہیں احرام کے لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔وہ اپنی اپنی جگہوں سے ہی احرام باندھ سکتے ہیں۔احرام کا طریق یہ ہے کہ انسان حجامت بنوا کر غسل کرے۔خوشبو لگائے۔اور اس کے بعد سلے ہوئے کپڑے اتار کر ایک چادر تہہ بند کے طور پر کمر سے باندھ