تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 244

لے اور دوسری چادر جسم کے اوپر اوڑھ لے۔سر کو ننگا رکھے اور دور کعت نفل پڑھے اور اس کے بعد اپنے اوقات کا اکثر حصہ تکبیر و تلبیہ اور تسبیح و تحمید میں بسر کرے اور بار بار لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّمَعْۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ کہتا رہے۔ہر نماز کے بعد خصوصیت کے ساتھ بلند آواز کے ساتھ تلبیہ کہنا چاہیے۔محرم کے لئے سِلے ہوئے کپڑے یعنی قمیص شلوار پاجامہ یا کوٹ وغیرہ پہننا، سر کو ڈھانپنا، جرابیں پہننا، خوشبو لگانا ،خوشبودار رنگوں سے رنگے کپڑے پہننا، سرمنڈوانا، ناخن اتارنا، جوئیں نکالنا یا ان کو مارنا، جنگل کے کسی جانور کا شکار کرنا، شکار کے جانور کو ذبح کرنا، کسی کو شکار کےلئے کہنا یا کسی شکاری کی مدد کرنا، شہوانی تعلقات قائم کرنا یا شہوانی گفتگو کرنا،فحش کلامی کرنا یا فحش اشعار پڑھنا، فسق و فجور اور لڑائی جھگڑے میں حصہ لینا، یہ سب امور ناجائز ہوتے ہیں۔البتہ محرم غسل کر سکتا ہے کپڑے دھو سکتا ہے اور دریائی جانور کا شکار بھی کر سکتا ہے۔محرم عورت کے لئے بھی ان ہدایات کی پابندی ضروری ہے البتہ اُسے بے سلے کپڑے پہننے کی ضرورت نہیں۔اُسے اپنا معمولی لباس یعنی قمیص پاجامہ اور دوپٹہ ہی رکھنا چاہیے البتہ وہ برقعہ نہیں اوڑھ سکتی۔جب حاجی حدودِ حرم میں داخل ہو (یعنی مکہ معظمہ اور اس کے ارد گرد کے علاقہ میں جو حرم کہلاتا ہے) تو وہ آدابِ حرم کو ملحوظ رکھے۔اور جب بیت اللہ پر پہلی مرتبہ نظر پڑے تو اللہ تعالیٰ کے حضور فوراً دُعا کےلئے اپنے ہاتھ اُٹھا دے کیونکہ وہ قبولیت دُعا کا خاص وقت ہوتاہے اس کے بعد جب بیت اللہ کے پاس پہنچے تو حجرا سود سے خانہ کعبہ کا سات مرتبہ طواف کرے۔طواف کرتے ہوئے اگر ممکن ہو تو ہر دفعہ حجرا سود کو بوسہ دینا چاہیے اور اگر ممکن نہ ہو تو صرف ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کر دینابھی کافی ہے۔طواف سے فارغ ہونے کے بعد دو رکعت نفل پڑھے اور پھر صفا اور مروہ کے درمیان سات مرتبہ چکر لگائے۔صفا سے مروہ تک ایک چکر شمار ہو گا اور مروہ سے صفا تک دوسرا پھر مکہ معظمہ میں ٹھہر کر ایام حج کا انتظار کر ےجب ذوالحجہ کی آٹھویں تاریخ ہو تو وہ مکہ سے منیٰ چلا جائے اوروہاں پانچوں نمازیں پڑھے پھروہاں سے دوسری صبح نماز فجر ادا کرنے کے بعد عرفات کی طرف ایسے وقت میں چلے کہ وہاں بعد زوال داخل ہو اور ظہر و عصر کی نمازیں وہاں جمع کر کے ادا کرے اور سورج کے ڈوبتے تک عرفات میں ہی رہے اور دعائوں اور عبادت میں اپنا وقت گذارے اس کے بعد مزدلفہ مقام میں آئے۔جہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے پڑھے او روہاں رات بھر عبادت اور دعائوں میں بسر کرے۔فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد سورج نکلنے سے پہلے مشعر الحرام پر جا کر دُعا کرے۔اور وہاں سے سورج نکلنے سے پہلے ہی روانہ ہو کر منیٰ پہنچے اور وہاں جا کر جمرۃ العقبہ پر سات کنکریاں مارے اور ہر دفعہ کنکر پھینکنے کے ساتھ ساتھ تکبیر کہے۔مگر یہ کام سورج نکلنے کے بعد