تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 242
قربانی کرو گے تو غریب بھی خوش ہوںگے۔تم بھی ہلاکت سے بچ جائو گے اور خدا تعالیٰ بھی تم پر خوش ہو گا۔پھر فرماتا ہے اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ اگر تمہارے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ پھر ہماری کمائی کا صلہ ہم کو کیا ملا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا صلہ مال سے زیادہ ملے گا۔اور وہ تمہارے پیدا کرنے والے خدا کی محبت ہے۔تمہاری دنیا کے ساتھ تمہاری عاقبت بھی درست ہو جائےگی۔یہ معنے تو سیاقِ کلام کے لحاظ سے ہیں لیکن اس کے ایک معنے صرف اس ٹکڑہ آیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ہیں کہ عبادات میں یا کھانے پینے میں یا محنت و مشقت میں یا صفائی و طہارت میں کبھی کوئی ایسی راہ اختیار نہ کرو۔جس کا نتیجہ تمہاری صحت یا تمہاری جان یا تمہاری عقل یا تمہارے اخلاق کے حق میں بُرا نکلے۔تَھْلُکَۃ کا لفظ جو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے استعمال کیا ہے اس کے معنے کسی ایسے فعل کے ہوتے ہیں جس کا انجام ہلاکت ہو اور نتیجہ بُرا نکلے۔پس اس لفظ کے استعمال کرنے سے قرآن کریم نے اس طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ اسلام دین یا عزّت یا تمدن کی حفاظت کے لئے انسان کو اپنی جان خطرہ میں ڈالنے سے نہیںر وکتا بلکہ ایسے کاموں سے روکتا ہے جن کا کوئی نیک نتیجہ برآمد ہونے کی امید نہ ہو۔اور جن میں انسان کی جان یا کسی اور مفید شے کے بلاوجہ برباد ہونےکا خطرہ ہو۔وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اور حج اور عمرہ کو اللہ (کی رضا) کے لئے پورا کرو۔پھر اگر تم (کسی سبب سےحج اور عمرہ سے) روکے جاؤ اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى تو جو قربانی میسّر آئے (ذبح کرو) اور جب تک کہ قربانی اپنے مقام پر (نہ) پہنچ جائے اپنے سر نہ مونڈو۔يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ بِهٖۤ اور جو کوئی تم میںسے بیمار ہو یا اپنے سر (کی بیماری کی وجہ )سے اسے تکلیف (پہنچ رہی )ہو اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ (اور وہ سر مونڈوادے) اس پر (اس وجہ سے) روزوں یا صدقہ یا قربانی کی قسم سے کچھ فدیہ (واجب) ہوگا۔