تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 177
غرض رمضان کا مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص برکات اور خاص رحمتیں لے کر آتا ہے۔یوں تو اللہ تعالیٰ کے انعام اور احسان کے دروازے ہر وقت ہی کھلے رہتے ہیں اور انسان جب چاہے ان سے حصہ لے سکتا ہے صرف مانگنے کی دیر ہوتی ہے ورنہ اس کی طرف سے دینے میں دیر نہیں لگتی کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے بندہ کو کبھی نہیں چھوڑتا۔ہاںبندہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر بعض دفعہ دوسروں کے دروازہ پر چلا جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ بدر کے بعد ایک عورت کو دیکھا کہ وہ پریشانی کے عالم میں اِدھر اُدھر پھر رہی تھی۔اُسے جو بچہ بھی نظر آتا وہ اُسے اُٹھا کر اپنے گلے سے لگا لیتی اور پیار کر کے چھوڑ دیتی۔آخر اسی طرح تلاش کرتے کرتے اُسے اپنا بچہ مل گیا اور وہ اُسے لے کر اطمینان کے ساتھ بیٹھ گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ ؓکو مخاطب کر کے فرمایا۔اس عورت کو اپنا بچہ ملنے سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی اللہ تعالیٰ کو اپنے گمشدہ بندہ کے ملنے سے خوشی ہوتی ہے(مسلم کتاب التّوبة باب سعۃ رحمۃ اللہ تعالٰی و انھا تغلب غضبہ)۔سو اس رحیم و کریم ہستی سے تعلق پیدا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ہر گھڑی رمضان کی گھڑی ہو سکتی ہے اور ہر لمحہ قبولیت دُعا کا لمحہ بن سکتا ہے۔اگر دیر ہوتی ہے تو بندہ کی طرف سے ہوتی ہے۔لیکن یہ بھی اس کے احسانات میں سے ہی ہے کہ اس نے رمضان کا ایک مہینہ مقر ر کر دیا۔تاکہ وہ لوگ جو خود نہیں اُٹھ سکتے ان کو ایک نظام کے ماتحت اُٹھنے کی عادت ہو جائے اور ان کی غفلتیں ان کی ہلاکت کا موجب نہ ہوں۔پس یاد رکھو کہ روزے کوئی مصیبت نہیں ہیں۔اگر یہ کوئی دکھ کی چیز ہوتی تو انسان کہہ سکتا تھا کہ میں دکھ میں کیوں پڑوں ؟ لیکن جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے روزے دکھوں سے بچانے اور گناہوں سے محفوظ رکھنے اور اللہ تعالیٰ کی لِقاء حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔اور گوبظاہر یہ ہلاکت کا باعث معلوم ہوتے ہیں۔کیونکہ انسان فاقہ کرتا ہے۔جاگتا ہے۔بے وقت کھانا کھاتا ہے جس سے معدہ خراب ہوجاتا ہے اور پھر ساتھ ہی اس کے یہ احکام بھی ہیں کہ صدقہ و خیرات زیادہ کرو۔اور غرباء کی پرورش کا خیال رکھو۔مگر یہی قربانیاں ہیں جو اُسے خدا تعالیٰ کا محبوب بناتی ہیں۔اور یہی قربانیاں ہیں جو قومی ترقی کا موجب بنتی ہیں۔اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ (سو تم روزے رکھو ) چند گنتی کے دن۔اور تم میں سے جو شخص مریض ہو یا سفر میں ہو تو (اسے) اور دنوں میں تعداد فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ (پوری کرنی ) ہوگی۔اور ان لوگوں پر جو اس کی (یعنی روزہ کی ) طاقت نہ رکھتے ہوں ایک مسکین کا کھا نا دینا(بطور