تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 178

طَعَامُ مِسْكِيْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ فدیہ رمضان کے) واجب ہے۔اور جو شخص پوری فرمانبرداری سے کوئی نیک کام کرے گا تو یہ اس کے لئے بہتر ہوگا۔تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۰۰۱۸۵ اور اگر تم علم رکھتے ہو تو( سمجھ سکتے ہو کہ)تمہارا روزے رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے چند گنتی کے دن ہیں جن میں روزے رکھنا تم پر فرض کیا گیا ہے۔ہاں جو تم میں سے بیمار یا مسافر ہو اس کے لئے اور دنوں میں اس تعداد کا پورا کرنا ضروری ہو گا۔اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ اور فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ کے الفاظ صاف طور پر بتاتے ہیں کہ یہ روزے جن کا حکم دیا جا رہا ہے نفلی نہیں بلکہ واجب ہیں۔اسی لئے فرمایا کہ اگر کوئی بیمار یا مسافر ہو تو اُسے بہرحال بعد میں اس تعداد کو پورا کرنا ہوگا۔وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب رمضان کے دنوں میں مَیں بیمار تھا یا سفر پر گیا ہوا تھا تو اب رمضان کے بعد مَیں کیوں روزے رکھوں۔جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ میں رمضان المبارک کے روزوں کا ذکر نہیں بلکہ صرف عام طور پر روزے رکھنے کا ذکر ہے وہ غلطی پر ہیں۔اگر ان کی یہ بات صحیح ہو تو فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ کا کوئی مطلب ہی نہیں رہتا۔اول تو اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍسے ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صرف ایسے ہی روزوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کے لئے شریعت کی طرف سے بعض ایام مقرر ہیں۔دوسرے اَيَّامٍ اُخَرَ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایام کسی خاص مہینہ سے متعلق ہیں۔پس كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُسے عام نفلی روزے مراد لینا کسی طرح بھی درست نہیں ہو سکتا۔پھر اس بارہ میں اللہ تعالیٰ یہ ہدایت دیتا ہے کہ جو شخص بیمار یا مسافر ہو اُسے بیماری اور سفر کی حالت میں روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔بلکہ اَور دنوں میں اس کمی کو پورا کرنا چاہیے۔میں نے اپنے تجربہ کی بنا پر یہ بات دیکھی ہے کہ رمضان کے بارہ میں مسلمانوں میں افراط و تفریط سے کام لیا جاتا ہے۔کئی تعلیم یافتہ لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ رمضان کی برکات کے قائل ہی نہیں اور بغیر کسی بیماری یا اور عذرِ شرعی کے روزہ کے تارک ہیں۔اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو سارااسلام روزہ میں ہی محدود سمجھتے ہیں۔اور ہر بیمار، کمزور، بوڑھے، بچے، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت سے بھی یہی امید رکھتے ہیں کہ وہ ضرور روزہ رکھے خواہ بیماری بڑھ جائے یا صحت کو نقصان پہنچ جائے۔یہ دونوں افراط و تفریط میں مبتلا ہیں۔اسلام کا یہ ہرگز منشا نہیں کہ وہ انسان کو اس راستہ سے ہٹا دے جو اس کی کامیابی کا ہے۔