تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 176
روک لیتا ہے۔جیسے نماز کے وقت اس بات کا لحاظ رکھ لیتا ہے کہ اس وقت ایسی چیزیں ظاہر نہ ہوں جو وضو کو باطل کر دیں۔بعض کیفیتیں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ روک دینے سے کم نکلتی ہیں اور اگر انہیں نکلنے کے لئے آزاد چھوڑ دیا جائے تو بڑھ جاتی ہیں غصہ بھی ایسی ہی کیفیات میں سے ہے۔ہمارے ہاں محاورہ بھی یہی ہے۔کہتے ہیں کہ اب تو آپ نے غصہ نکال لیا ہے اب جانے دو۔یعنی گالی گلوچ یا مار پیٹ کے ذریعہ سے غصہ کا اظہار کر لیا ہے۔لیکن اگر وہ اسے دبالیتا اور روک لیتا تو وہ اس کے لئے نیکی ہو جاتی ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کسی کے دل میں کوئی بُرا خیال پیدا ہو مگر وہ اسے روک لے اور اس پر عمل نہ کرے تو یہ اس کے لئے نیکی ہو جاتی ہے(مسلم کتا ب الایمان باب اذاھم العبد بحسنۃ کتبت و اذاھمّ بسیئۃ لم تکتب ) غرض قلب کے بعض ایسے حالات ہوتے ہیں کہ اگر انہیں ظاہر کیا جائے تو طہارت باطل ہو جاتی ہے۔لیکن اگر ان کو دل ہی میں رکھیں تو نیکی بن جاتی ہے۔یہ سبق نماز سے حاصل ہوتا ہے۔دوسری چیز یہ ہے کہ کوئی چیز جسم میں داخل نہ ہونے دی جائے اس کی مثال جھوٹ استہزاء چغلخوری اور غیبت وغیرہ کی باتیں ہیں۔ان کا نہ سننا بھی نیکی ہوتا ہے۔کیونکہ ایسی باتیں انسان کو روحانیت سے عاری کر دیتی ہیں۔پس اخلاقِ فاضلہ مکمل کرنے کے لئے ان دونوں کا خیال رکھناضروری ہوتا ہے۔کہ بعض قسم کے گند وںکو باہر نہ نکلنے دیا جائے اور بعض کو اندر داخل نہ ہونے دیا جائے۔روزہ ہمارے لئے یہ سبق رکھتا ہے کہ ہم ان تمام ناپاک اور گندی باتوں سے بچیں جن کو اپنے اندر داخل کرنے سے ہماری روحانیت باطل ہو جاتی ہے۔اور ہم اللہ تعالیٰ کے قرب سے محروم ہو جاتے ہیں۔اس سوال کا جواب کہ روزے صرف رمضان کے مہینہ میں ہی کیوں رکھوائے جاتے ہیں۔سارے سال پر ان کو کیوں نہ پھیلا دیا گیا یہ ہے کہ جب تک تواتر اور تسلسل نہ ہو صحیح مشق نہیں ہوسکتی۔ہر مہینہ میں اگر ایک دو دن کا روزہ رکھ دیا جاتا تو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا تھا۔ایک وقت کے کھانے میں تو بعض اوقات سیر وغیرہ کے باعث بھی دیر ہو جاتی ہے یا بعض اوقات اور مصروفیتوں کے باعث بھی کھانا نہیں کھایا جا سکتا۔مگر کیا اس سے بھوک اور پیاس کو برداشت کرنے کی عادت ہو جاتی ہے؟ حکومت بھی فوجیوں سے متواتر مشق کراتی ہے۔یہ نہیں کہ ہر مہینہ میں ایک دن ان کی مشق کے لئے رکھ دے۔غرض جو کام کبھی کبھی کیا جائے اس سے مشق نہیں ہو سکتی۔مشق کے لئے مسلسل کام کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے پورے ایک ماہ کے روزے مقرر فرما دیئے تاکہ مومنوں کو خدا تعالیٰ کے لئے بھوکا پیاسا رہنے اور رات کو عبادت کےلئے اُٹھنے اور دن کو ذکرِ الٰہی اور تلاوت ِقرآن کرنے کی عادت ہو اور ان کی روحانی صلاحیتیں ترقی کریں۔