تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 162

ہوتاہے وہ ایک عرصہ تک گوشت کھانے کی وجہ سے ایسے اخلاق سے عاری ہو جاتی ہیں جو سبزی کھانے کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کو اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دےدیا گیا ہو کہ وہ ہفتہ میں ایک دن گوشت کھانا چھوڑ دیں تو یقیناً یہ روزہ ان کے لئے بہت مفید تھا۔پس پہلی قوموں میں روزے تو تھے مگر شکل وہ نہ تھی جو اسلام میں ہے پس كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ میں جو مشابہت پہلے لوگوں کے ساتھ بیان کی گئی ہے وہ کمیّت اور کیفیّت کے لحاظ سے نہیں بلکہ صرف فرضیت کے لحاظ سے ہے یعنی کَمَا کُتِبَ سے یہ مراد نہیں کہ وہ ویسے ہی روزے رکھتے تھے جیسے مسلمان رکھتے ہیں۔یا اُتنے ہی روزے رکھتے تھے جتنے مسلمان رکھتے تھے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان پر بھی روزے فرض تھے اور تم پر بھی فرض کئے گئے ہیں گویا صرف فرضیت میں مشابہت ہے نہ کہ تفصیلات میں۔چنانچہ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا میں ـ’’روزہ‘‘ کے ماتحت لکھا ہے کہ۔IT WOULD BE DIFFICULT TO NAME ANY RELIGIOUS SYSTEM OF ANY DESCRIPTION IN WHICH IT IS WHOLLY UNRECOGNISED۔یعنی دنیا کا کوئی باقاعدہ مذہب ایسا نہیں جس میں روزہ کا حکم نہ ملتا ہو۔بلکہ ہر مذہب میں روزوں کا حکم موجود ہے۔چنانچہ اس بارہ میں سب سے پہلے ہم یہودی مذہب کو دیکھتے ہیں۔تورات میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب طور پر گئے تو انہوں نے چالیس دن رات کا روزہ رکھا اور ان ایام میں انہوں نے نہ کچھ کھایا نہ پیا۔چنانچہ لکھا ہے۔’’سو وہ (یعنی موسیٰ) چالیس دن اور چالیس رات وہیں خدا وند کے پاس رہا اور نہ روٹی کھائی نہ پانی پیا۔‘‘ (خروج باب۳۴ آیت۲۸) اسی طرح احبار باب۱۶ آیت۲۹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ساتویں مہینہ کی دسویں تاریخ کو ایک روزہ رکھنا یہود کے لئے ضروری قرار دیا گیا تھا۔چنانچہ بنی اسرائیل ہمیشہ یہ روزے رکھتے رہے اور انبیاء بنی اسرائیل بھی اس کی تاکید کرتے رہے۔زبور میں حضرت دائود ؑ فرماتے ہیں۔’’میں نے تو ان کی بیماری میں جب وہ بیمار تھے ٹاٹ اوڑھا اور روزے رکھ رکھ کر اپنی جان کو دُکھ دیا۔‘‘ (زبور باب ۳۵ آیت۱۳) یسعیاہ نبی فرماتے ہیں۔’’ دیکھو تم اس مقصد سے روزہ رکھتے ہو کہ جھگڑا رگڑا کرو اور شرارت کے مکے مارو۔پس اب تم