تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 163

اس طرح کا روزہ نہیں رکھتے ہو کہ تمہاری آواز عالمِ بالا پر سُنی جائے۔‘‘ (یسعیاہ باب۵۸ آیت۴) دانی ایل فرماتے ہیں۔’’ میں نے خداوند خدا کی طرف رخ کیا اور میں منت اور مناجات کر کے اور روزہ رکھ کر اور ٹاٹ اوڑھ کر اور راکھ پر بیٹھ کر اُس کا طالب ہوا۔‘‘ (دانی ایل باب۹ آیت۳) یو ایل نبی فرماتے ہیں۔’’خداوند کا روزِ عظیم نہایت خوفناک ہے۔کون اس کی برداشت کر سکتا ہے؟ لیکن خداوند فرماتا ہے اب بھی پورے دل سے اور روزہ رکھ کر اور گریہ وزاری و ماتم کرتے ہوئے میری طرف رجوع لائو اور اپنے کپڑوں کو نہیں بلکہ دلوں کو چاک کر کے خداوند اپنے خدا کی طرف متوجہ ہو کیونکہ وہ رحیم و مہربان قہر کرنے میں دھیما اور شفقت میں غنی ہے اور عذاب نازل کرنے سے باز رہتا ہے۔‘‘ (یو ایل باب ۲ آیت۱۱ تا۱۳) یہودیت کے بعد عیسائیت کو دیکھا جائے تو اس میں بھی روزوں کا ثبوت ملتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح ؑ کے متعلق انجیل بتاتی ہے کہ انہوں نے چالیس دن اور چالیس رات کا روزہ رکھا۔متی میں لکھا ہے۔’’ اور چالیس دن اور چالیس رات فاقہ کر کے آخر کو اُسے بھوک لگی‘‘ (متی باب ۴ آیت ۲) اسی طرح حضرت مسیح ؑ نے اپنے حواریوں کو ہدایت دی کہ۔’’جب تم روزہ رکھو تو ریاکاروں کی طرح اپنی صورت اُداس نہ بنائو کیونکہ وہ اپنا منہ بگاڑتے ہیں تاکہ لوگ ان کو روزہ دار جانیں۔میں تم سےسچ سچ کہتا ہوں کہ وہ اپنا اجر پا چکے۔بلکہ جب تو روزہ رکھے تو اپنے سر میں تیل ڈال اور منہ دھو تاکہ آدمی نہیں بلکہ تیرا باپ جو پوشیدگی میں ہے تجھے روزہ دار جانے۔اس صورت میں تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے تجھے بدلہ دےگا۔‘‘ (متی باب۶ آیت۱۶ تا۱۸) اِسی طرح ایک دفعہ جب حواری ایک بد روح کو نہ نکال سکے تو ’’ اُس کے شاگردوں نے تنہائی میں اس سے پوچھا کہ ہم اسے کیوں نہ نکال سکے تو اس نے ان سے کہا کہ یہ قسم دعا اور روزہ کے سوا کسی اور طرح نہیں نکل سکتی۔‘‘ (مرقس باب۹ آیت۲۸،۲۹)