تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 127
انہیں شرفِ مکالمہ و مخاطبہ عطا فرماتا۔مگر انہوں نے زحمت کو رحمت سمجھ لیا اور خدا تعالیٰ سے دُوری کو ایک انعام سمجھ کر اُسے حرز جان بنا لیا۔اس آیت کا ایک یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت کا کلام نہیں کرےگا۔اور یہ عام محاورہ ہے۔ہماری زبان میں بھی کہتے ہیں کہ میں تم سے بات نہیں کروںگا۔اور مراد یہ ہوتی ہے کہ میں تم سے دوستانہ کلام نہیں کروںگا پس اس کے ایک معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس روز ان سے دوستانہ کلام نہیں کرےگا۔بلکہ اس کا کلام ایسا ہی ہوگا جیسے ایک جج کسی مجرم کو سزا کاحکم سُناتے وقت کلام کرتا ہے۔مگر بہر حال خواہ کوئی معنے لئے جائیں خدا تعالیٰ کا ترک گفتگو اس کی ناراضگی کی نشانی ہے۔مگر مسلمان بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نعوذباللہ خدا تعالیٰ کا اُمت محمدیہ پر یہ انعام نازل ہوا کہ اس نے ان سے کلام کرنا ترک کر دیا اور وحی اور الہام کے سلسلہ کو منقطع کر دیا۔پھر فرمایا وَ لَا يُزَكِّيْهِمْ۔چونکہ اسلام کی رو سے کفار کو دوزخ میں ڈالنے کی غرض ہی یہی ہے کہ ان کا تزکیہ ہو اس لئے وَ لَا يُزَكِّيْهِمْ کے یہ معنے نہیں کہ وہ انہیں پاک نہیں کرےگا۔بلکہ یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں پاک قرار نہیں دے گا۔ترتیب وربط۔ان آیات میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے ساتھ ہی یہود کو بھی مدِّنظر رکھا گیا ہے چنانچہ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَمیں ان کے اس اعتراض کو دُور کیا گیا ہے کہ یہ نبی ان چیزوں کو کیوں حلال کرتا ہے جو شریعت موسویہ میں حرام تھیں؟اگر یہ ان پیشگوئیوں کا مصداق ہے تو اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ یہ اعتراض قلّتِ تدبّر کا نتیجہ ہے۔جو احکام کسی خاص وقت کے مناسب حال تھے ان کو دوام کا رنگ نہیں دیا جا سکتا تھا اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے یہود کے ہاں اونٹ حرام تھا۔مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت حلال تھا۔پس جس طرح موسیٰ علیہ السلام سے قبل بعض چیزیں حلال تھیں اور کئی انبیاء تک ان کو استعمال کرتے رہے مگر بعد میں ان کو حرام کر دیا گیا۔اسی طرح موسوی شریعت کے بعد بھی خدا تعالیٰ اختیار رکھتا تھا کہ وہ بعض حرام سمجھی جانے والی چیزوں کو حلال کر دیتا۔پس اس پر اعتراض کرنا نادانی کی علامت ہے۔