تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 128

اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی اور مغفرت چھوڑ کر عذاب اختیار کر لیا ہے۔بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ۰۰۱۷۶ پس آگ (کے عذاب) پر ان کی برداشت تعجب انگیز ہے۔حل لغات۔اِشْتَرَوْا اِشْتَرٰی سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور اِشْتَرَاہُ کے معنے ہیں مَلَکَہٗ بِالْبَیْعِ کسی چیز کا خرید کے ذریعہ سے مالک ہو گیا۔بَاعَہٗ نیز اس کے معنے ہیں اس کو بیچا یعنی یہ لفظ اضداد میں سے ہے۔اور متضاد معنے دیتا ہے خریدنے کے بھی اور بیچنے کے بھی۔وَکُلُّ مَنْ تَرَکَ شَیْئًا وَ تَمَسَّکَ بِغَیْرِہٖ فَقَدِ اِشْتَرَاہُ۔ہر وہ شخص جو ایک چیز کو چھوڑ کر کسی دوسری چیز کو اس کی بجائے اختیار کر لے اس پر اِشْتَرٰی کا لفظ بولیں گے۔گویا اس نے ایک چیز دے کر دوسری لے لی۔(اقرب) عام طور پر شَرَا کسی چیز کو خرید نے اور لفظ بَیْع کسی چیز کے بیچنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔لیکن جب سامان کو سامان کے بدلہ میںتبادلہ کیا جائے تو دونوں لفظ ایک دوسرے کی جگہ استعمال کر لیا کرتے ہیں۔لیکن لفظ شَرَا اور اِشْتَرٰی کا استعمال اس طرح بھی جائز ہے کہ جو شخص ایک چیز کو ترک کر دے اور دوسری کو اختیار کرے تو اس کی نسبت کہیں گے کہ شَرَا ہُ یا اِشْتَرَاہُ۔(مفردات) اَلضَّلٰـلَۃُ ضَلَّ یَضِلُّ کے معنے ہیں ضِدُّ اِھْتَدٰی یعنی ہدایت کے خلاف حالت پر ہو گیا اور دین اور حق نہ پایا۔ضَلَّ عَنْہُ یَضِلُّ : لَمْ یَھْتَدِ اِلَیْہِ اس طرف راہ نہ پائی۔ضَلَّ یَضَلُّ (ضاد کی زبر سے) فُـلَانٌ الطَّرِیْقَ وَعَنِ الطَّرِیْقِ لَمْ یَھْتَدِ اِلَیْہِ راستہ نہ پایا۔جب دار یا منزل یا ہر اپنی جگہ پر قائم رہنے والی چیز کا اس کے بعدذکر ہو تو اس کے یہی معنے ہوتے ہیں۔ضَلَّ الرَّجُلُ فِی الدِّیْنِ ضَلَا لًا وَضَلَالَۃً : ضِدُّ اِھْتَدٰی۔اس شخص نے دین کے معاملہ میں درست راہ نہ پائی۔ضَلَّ فُـلَانٌ الْفَرَسَ فلاں شخص نے اپنا گھوڑا گم کر دیا۔ضَلَّ عَنِّیْ کَذَا : ضَاعَ مجھ سے فلاں چیز ضائع ہو گئی۔ضَلَّ الْمَاءُ فِی اللَّبَنِ۔خَفِیَ وَغَابَ پانی دودھ میں مل گیا اور غائب ہو گیا۔ضَلَّ فُـلَانٌ فُـلَانًا: نَسِیَہٗ اس شخص کو بھول گیا۔ضَلَّ النَّاسِیْ : غَابَ عَنْہُ حِفْظُ الشَّیْءِ۔بھول گیا۔اس کے ذہن سے بات نکل گئی۔ضَلَّ سَعْیُہٗ : عَمِلَ عَمَلًا لَمْ یَعُدْ عَلَیْہِ نَفْعُہٗ ایسا کام کیا کہ جس کا