تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 126

دنیوی مفاد کو دینی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ وہ اپنے پیٹوں میں انگارے ڈال رہے ہیں۔مَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ۔اس آیت میں بُطُوْن کا لفظ تاکید کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور فِیْ بُطُوْنِھِمْ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ان کے بطون کے اندر آگ کا عذاب پیدا کیا جائے گا۔یعنی انہیں اندرونی عذاب دیا جائےگا جو بیرونی عذاب سے زیادہ سخت ہوتا ہے۔اسی مفہوم کو ایک شاعر نے اس طرح ادا کیا ہے کہ ؎ دُخُوْلُ النَّارِ لِلْمَھْجُوْرِ خَیْرٌ مِنَ الْھِجْرِ الَّذِیْ ھُوَ یَتَّقِیْہِ لِاَنَّ دُخُوْ لَہٗ فِی النَّارِ اَدْنٰی عَذَابًا مِنْ دُخُوْلِ النَّارِ فِیْہِ یعنی ایک مہجور انسان جو اپنے محبوب کے فراق میں نالہ و فریاد کر رہا ہو اس کا آگ میں داخل ہو جانا اس جدائی کی آگ سے زیادہ آسان ہوتا ہے جس سے وہ بچنا چاہتا ہے۔کیونکہ اس کا آگ کے اندر داخل ہونا اس سے کم تکلیف دہ ہے کہ آگ اس کے اندر داخل ہو جائے اور وہ اس کے رگ و ریشہ کو جلا کر راکھ کر دے۔اسی محاورہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ آگ میں داخل کئے جائیں گے بلکہ فرمایا کہ وہ آگ اپنے پیٹوں میں ڈال رہے ہیں۔یعنی وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے لئے ایک اندرونی جہنم تیار کر رہے ہیں۔گویا اس آیت میں سبب کی جگہ مسبّب استعمال ہوا ہے۔وَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ۔پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے قیامت کے دن کلام تک نہیں کرے گا۔یہ ایک عظیم الشان نکتہ تھا جسے افسوس کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے فراموش کر دیا۔فرماتا ہے اللہ تعالیٰ اُن سے نہیں بولےگا حالانکہ قیامت کا دن وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کافروں سے بھی کلام کرے گا۔جیسا کہ دوسری جگہ قرآن کریم میں آتا ہے وَ يَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ(القصص: ۶۶) یعنی اس دن خدا تعالیٰ کفار کو پکارے گا اور کہےگا تم نے میرے رسولوں کے پیغام کا کیا جواب دیا تھا؟ پس قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کا کفار سے بھی کلام کرنا ثابت ہے تو بعض لوگوں سے اس کا منہ پھیر لینا اور ان سے کلام تک نہ کرنا بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے شدید ناراض ہو گا۔اور وہ نہیں چاہے گا کہ ان سے زجر کے رنگ میں بھی کلام کرے۔گویا اللہ تعالیٰ کا کلام نہ کرنا اُس کی ناراضگی کا نتیجہ ہوتا ہے۔مگر اس زمانہ کے مسلمان یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا اپنے بندوں سے کلام نہ کرنا نعوذباللہ ایک بڑی نعمت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل امتِ محمدیہ کو حاصل ہوئی حالانکہ خیرِ اُمت کی علامت یہ ہونی چاہیے تھی کہ اللہ تعالیٰ اس نعمت کا دروازہ ان پر زیادہ سے زیادہ کھولتا اور پہلی قوموں سے بھی زیادہ