تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 108
اَلْفُحْشُ وَالْفَحْشَاءُ وَالْفَاحِشَۃُ مَا عَظُمَ قُبْحُہٗ مِنَ الْاَ فْعَالِ وَالْاَ قْوَالِ۔فحش۔فحشاء اور فاحشہ سے ہر ایسا قول یا فعل مراد ہے جو بہت ہی بُرا ہو۔(مفردات) تفسیر۔شیطان کے پیچھے چلنے کا ایک نتیجہ تو یہ ہوتا ہے کہ وہ ذاتی طور پر انسان کو مختلف قسم کی بُرائیوں میں مبتلا کر دیتا ہے جیسے بدظنی ہے یا جھوٹ ہے یا کینہ ہے یا جہالت ہے یا سُستی اور غفلت ہے یا بُزدلی ہے یا تکبر ہے یا بے غیرتی ہے یا ناشکری ہے یہ وہ بُرائیاں ہیں جن سے صرف انسان کی اپنی ذات کو نقصان پہنچتا ہے اور جن کی طرف سوء کے لفظ میں اشارہ کیا گیا ہے۔لیکن جب انسان اپنی اصلاح نہیں کرتا تو دوسرا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ فحشاء یعنی ایسی بدیاں کرواتا ہے جن کا دوسرے لوگوں پر بھی اثر پڑتا ہے جیسے خیانت اور تہمت اور ظلم اور دھوکا اور قتل اور چوری اور مارپیٹ اور گالی اور ناواجب طرف داری اور رشوت وغیرہ ایسے جرائم ہیں جو دوسروں سے تعلق رکھتے ہیں پھر وہ بدیوں میں اور زیادہ بڑھاتا ہے اور آخر انسان کو خدا کے مقابلہ میں کھڑا کر دیتا ہے یا انسان کے اندر ایسی بے حیائی پیدا کر دیتا ہے کہ اُسے دوسروں کے سامنے بھی برائیوں کے ارتکاب میں کوئی حجاب محسوس نہیں ہوتا۔اور وہ بر ملا خدائی احکام کے خلاف لب کشائی شروع کر دیتا ہے یا اُس پر افتراء پردازی شروع کر دیتا ہے۔گویا پہلے تو وہ ایسی بدیاں کرواتا ہے جن کا ضرر صرف اس کی ذات تک محدود ہوتا ہے۔پھر غیرتِ انسانی مٹتی ہے تو ایسی بدیاں کرواتا ہے جن سے دوسرے لوگ بھی متاثر ہوں۔پھر اور ترقی کر کے اس کی زبان سے ایسی باتیں نکلواتا ہے جو خدا تعالیٰ کی ہتک کرنے والی اور اس کا مضحکہ اڑانے والی ہوتی ہیں۔اور اس طرح وہ درجہ بدرجہ انسان کو جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔غرض شیطان کبھی یکدم بڑے گناہ پر انسان کو آمادہ نہیں کرتا۔بلکہ اس کے وساوس کی یہ ترتیب ہوتی ہے کہ وہ پہلے چھوٹی بدی کا حکم دیتا ہے پھر بے حیائی پر آمادہ کرتا ہے۔اور پھر خدا پر جھوٹ باندھنے کے لئے تیار کر دیتا ہے۔گویا چھوٹی نافرمانی سے شروع کر کے اُسے انتہا تک لے جاتا ہے۔وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اور جب ان سے کہا جائے کہ اس (کلام) کی جو اللہ نے اتارا ہے پیروی کرو تو وہ کہتے ہیں کہ (نہیں) ہم تو اَلْفَيْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ اسی (طریقہ ) کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا۔بھلا اگر ان کے باپ دادے کچھ بھی عقل