تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 109

شَيْـًٔا وَّ لَا يَهْتَدُوْنَ۰۰۱۷۱ نہ رکھتے اور نہ راہ راست پر چلتے ہوں (تو پھر بھی وہ ایسا ہی کریں گے)۔تفسیر۔اس آیت میں بتایا کہ شیطان کی پیروی کرنے کا ایک یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ اگر لوگوں کو خدا تعالیٰ کی بات ماننے کے لئے کہا جائے تو ان کی عقل ایسی ماری جاتی ہے کہ وہ کہہ دیتے ہیں ہم تو اپنے باپ دادا کی بات مانیں گے اور اُنہیں کے پیچھے چلیں گے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ ٔنبوت فرمایا تو مکہ والوں نے آپ کا شدیدمقابلہ کیا۔وہ لوگ آخر کیوں مقابلہ کرتے تھے اس لئے کہ وہ کہتے تھے کہ کیا ہم اس مذہب کو چھوڑ دیں جس پر ہمارے آبائو اجداد قائم تھے۔گویا وہ کسی چیز کے ذاتی حُسن کو نہیں دیکھتے تھے بلکہ صرف حسنِ اضافی اُن کے پیش نظر تھا اور باوجود اس کے کہ وہ جاہلانہ باتیں تھیں اُن لوگوں نے ان کے لئے اپنا مال اور اپنے عزیزوں اور اقرباء تک قربان کر دیئے تاکہ وہ چیزیں جو ان کی ہیں بچ جائیں۔اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے کہ اگر تمہارے باپ دادا بیوقوف ہوں تو کیا پھر بھی تم وہی کچھ کرو گے جو وہ کرتے چلے آئے ہیں یعنی تمہارے باپ دادا تو اپنی بیوقوفی کی وجہ سے تباہ ہوئے تھے کیا تم بھی ان کے نقشِ قدم پر چل کر تباہ ہونا چاہتے ہو۔ہمارے سلسلہ میں بھی لوگوں کے داخل ہونے میں سب سے بڑی روک یہی ہے کہ لوگ کہہ دیتے ہیں کہ کیا وہ باتیں جنہیں پہلے لوگ سالہا سال سے مانتے چلے آئیں ہیں ہم انہیں چھوڑدیں یہ تو بڑی مشکل بات ہے۔غرض اس آیت میں مخالفین اسلام کا سب سے بڑا اعتراض یہ بیان فرمایا ہے کہ ہم تو اسی طریق کی پیروی کریںگے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا تھا اس جگہ قَالُوْا سے یہ مراد نہیں کہ وہ منہ سے بھی ایسا کہتے ہیں۔بہت لوگ منہ سے بھی کہتے ہیں لیکن بہت ہیں جو منہ سے نہیں کہتے مگر پھر بھی ان کے انکار کی وجہ یہی ہوتی ہے۔اور قول کا لفظ ان معنوں میں عربی زبان میں استعمال ہو جاتا ہے۔جیسے کہتے ہیں اِمْتَـلَأَ الْحَوْضُ وَقَالَ قَطْنِیْ (اقرب)یعنی حوض بھر گیا اور اس نے زبان حال سے یہ کہا کہ بس بس۔اس آیت میں بھی اسی محاورہ کے مطابق قول کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ مخالفین اسلام کے اس اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اتنا تو سوچیں کہ اگر اُن کے باپ دادے ایسے ہوں کہ وہ کچھ بھی عقل نہ رکھتے ہوں اور نہ راہ راست پر ہوں تو کیا پھر بھی وہ ان کے پیچھے چلتے چلے جائیں گے یعنی کسی کی اتباع دو ہی طرح ہوتی ہے یا تو وہ بڑا عقلمند ہو اور یا پھر خدا تعالیٰ سے اُس نے ہدایت پائی ہوئی ہو۔لیکن اگر ان دونوں باتوں میں سے کوئی بھی نہ ہو تو کیا پھر بھی اُس کی اِتباع کی جاتی ہے؟ اور تمہارے باپ دادوں