تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 107

وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ۔اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔یعنی ایسا نہ کرو کہ جس طرف شیطان جا رہا ہے اُسی طرف تم بھی چلنا شروع کر دو۔وہ تمہارا دشمن ہے اور دشمن سے ہمیشہ دُور رہنا چاہیے نہ کہ اُس کی پیروی کرنی چاہیے۔کھانے پینے کے ذکر کے بعد شیطان کا ذکر کر کے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اگر تم حلال اور پھر حلال میں سے بھی طیّب رزق چھوڑ دو گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ تم شیطان کے پیچھے چل پڑوگے کیونکہ انسان جو کچھ کھاتا ہے اس سے جسم تیار ہوتا ہے اور ناجائز یا مضر اشیاء کے استعمال سے تیار شدہ جسم یقیناً انسان کو بدی کی طرف لے جائےگا نیکی کی طرف نہیں لے جا سکتا۔اِنَّمَا يَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ وہ تمہیں صرف بدی اور بے حیائی اور اس (بات) کی کہ تم اللہ (تعالیٰ ) کے متعلق جھوٹ باندھ کر وہ بات کہو مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۰۰۱۷۰ جو تم نہیں جانتے تلقین کرتا ہے۔حل لغات۔اِنَّمَا ( اِنَّ کے ساتھ مَا زائدہ ہے) لغت میں لکھا ہے اِذَا اُدْخِلَ عَلَیْہِ مَا یَبْطُلُ عَمَلُہٗ وَیَقْتَضِیْ اِثْبَاتَ الْحُکْمِ وَصَرْ فِہٖ عَمَّا عَدَاہُ۔جب اِنَّ پر مَا داخل ہو جائے تو اس کا عمل باطل ہو جاتا ہے اور بعد میں مذکور چیز کے لئے کسی بات کو ثابت کرنے اور باقی (غیر مذکور) چیزوں سے اس بات کی نفی کرنے کا مقتضی ہوتا ہے۔(مفردات) اَلسُّوْءُ کُلُّ مَا یُغَمُّ الْاِنْسَانَ مِنَ الْاُمُوْرِ الدُّنْیَوِیَّۃِ وَالْاُخْرَوِیَّۃِ وَمِنَ الْاَ حْوَالِ النَّفْسِیَّۃِ وَالْبَدَنِیَّۃِ وَالْخَارِجِیَّۃِ (مفردات)۔یعنی اَلسُّوْءُ سے مراد وہ تمام غمزدہ کر دینے والی تکالیف ہیں جو انسان کو دنیوی اور اُخروی امور نیز رُوحانی اور جسمانی اور دوسرے حالات کی وجہ سے زندگی میں پیش آتی ہیں۔اَلْفَحْشَآءُ اَلْفَحْشَاءُ وَالْفَاحِشَۃُ مَایَشْتَدُّ قُبْحُہٗ مِنَ الذُّنُوْبِ۔وَالْبُخْلُ فِیْ اَدَاءِ الزَّ کٰوۃِ وَقِیْلَ کُلُّ مَا نَھَی اللّٰہُ عَنْہُ (اقرب)۔یعنی فَحْشَاء اور فَاحِشَۃ سے مراد سخت بُرائی والا گناہ۔زکوٰۃ کی ادائیگی میںبخل کرنا۔اور بعض کے نزدیک ہر وہ کام ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہو۔