تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 106
مَالٌ طَیِّبٌ کہا جائے تو اس کے معنے ہوتے ہیں ایسا مال جو شرعی لحاظ سے حلا ل ہو۔(اقرب) پھر لکھا ہے وَاَصْلُ الطَّیِّبِ مَاتَسْتَلِذُّہُ الْحَوَاسُ وَمَا تَسْتَلِذُّہُ النَّفْسُ(مفردات)۔اور درحقیقت طیّب اس چیز کو کہتے ہیں جسے انسانی حواس لذیذ قرار دیں اور جس سے انسان کا دل لطف اندوز ہو۔پس آیت کے یہ معنے ہوںگے کہ ایسی چیزیں کھائو جو شرعی لحاظ سے حلال ہوں اور ظاہری لحاظ سے بھی تم انہیں لذیذ اور پسندیدہ سمجھو۔خُطُوَاتٌکے معنے ہیں طُرُقٌ وَسُبُلٌ رستے اور طریق۔اس کا مفرد خُطْوَ ۃٌ ہے جس کے معنے مَا بَیْنَ الْقَدَمَیْنِ کے ہیں یعنی دو قدموں کے درمیان کی جگہ اور فاصلہ۔(اقرب) تفسیر۔اس رکوع سے اللہ تعالیٰ نے ابراہیمی پیشگوئی کے اس دوسرے پہلو کو بیان کرنا شروع کیا ہے کہ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ یعنی وہ نبی انہیں شریعت اور اس کے اسرار سے آگاہ کر ے گا۔چنانچہ اس سلسلہ میں قرآن مجید نے سب سے پہلے حلال اور طیّب کھانے کی تعلیم کو لیا ہے۔کیونکہ انسانی اعمال اس کی ذہنی حالت کے تابع ہوتے ہیں اور ذہنی حالت غذا سے متاثر ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے لوگو! جو کچھ زمین میں ہے اُس میں سے حلال اور طیّب اشیاء کا استعمال کرو۔یعنی تم صرف یہی نہ دیکھا کرو کہ جو کچھ تم کھا رہے ہو وہ حلال ہے یا نہیں بلکہ یہ بھی دیکھ لیا کرو کہ وہ طیّب بھی ہے یا نہیں اگر کسی چیز کا کھانا تمہارے مناسب حال نہ ہو خواہ اس لحاظ سے کہ وہ تمہاری صحت کے لئے مضر ہو یا اس لحاظ سے کہ ملکی اور قومی حالات کی وجہ سے تمہیں اس کے کھانے کی عادت نہ ہو یا اس وجہ سے کہ تمہاری طبیعت اس سے انقباض محسوس کرتی ہو تو تم محض یہ دیکھ کر کہ شریعت نے اسے حلال قرار دیا ہے اسے مت کھائو۔کیونکہ تمہارے لئے کھانے میں صرف حرام و حلال کا امتیاز مدِّنظر رکھنا ہی ضروری نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ تم ایسی چیزوں کا انتخاب کیا کرو جو تمہاری طبیعت اور تمہارے ماحول اور تمہارے معمول کے مطابق ہوں اور جن کا کوئی مضر اثر تم پر پڑنے کا امکان نہ ہو۔مثلاً نزلہ اور زکام اور کھانسی میں تُرش اشیاء کا استعمال کھانسی کو اور بھی بڑھا دیتا ہے اب اگر کوئی شخص کھانسی میں تُرش میوے استعمال کرتا ہے یا اسہال میں گوشت روٹی استعمال کرتاہے یا جگر کی خرابی میں قابض اور نفاخ غذائوں کا استعمال کرتا ہے توخواہ یہ چیزیں حلال ہی کیوں نہ ہوں اس وجہ سے کہ وہ اس کے لئے طیّب نہیں ہیں ان کا استعمال اسے نقصان پہنچائےگا پس اس جگہ طیّب کو حلال کے ساتھ لگا کر یہ بتایا ہے کہ صرف حلال کھانا ہی مومن کا کام نہیں بلکہ یہ دیکھنا بھی اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ چیز طیّب ہو یعنی گندی اور سڑی ہوئی نہ ہو۔مضر صحت نہ ہو۔جو ساتھ کھانا کھانے والے لوگ ہوں ان کی طبائع کے خلاف نہ ہو۔