تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 105
اپنے زور کے ساتھ نکلنا چاہیںگے تو نہیں نکل سکیں گے چنانچہ اس کی وضاحت قرآن کریم کی اس آیت سے بھی ہو جاتی ہے کہ کُلَّمَآ اَرَادُوْآ اَنْ یَّخْرُجُوْامِنْھَآ اُعِیْدُوْا فِیْھَا وَقِیْلَ لَھُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ (السجدۃ: ۲۱) یعنی جب کبھی وہ دوزخ سے نکلنے کا ارادہ کریںگے تو پھر اُسی کی طرف لَوٹا دیئے جائیں گے اور انہیں کہا جائے گا کہ اب دوزخ کا وہ عذاب چکھو جس کو تم جھٹلا یا کرتے تھے۔پس اس جگہ جس چیز کی نفی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ خود اس عذاب سے نکل نہیں سکیں گے۔یہ نہیں کہا گیا کہ خدا تعالیٰ بھی انہیں دوزخ سے نہیں نکالے گا اور انہیں دائمی عذاب میں مبتلا رکھے گا۔دراصل اس بارہ میں بھی مومنوں اور کافروں میں بہت بڑا فرق رکھا گیا ہے۔مومنوں کے لئے تو جنّت حق قرار دیا گیا ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبۃ: ۱۱۱) یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال اس وعدہ کے ساتھ خرید لئے ہیں کہ ان کو جنّت ملے گی گویا یہ ایک سودا ہے جو ان کا خدا تعالیٰ سے ہو چکا۔یوں تو کسی کا بھی خدا تعالیٰ پر کوئی ذاتی حق نہیں مگر جس حق کو خدا تعالیٰ خود تسلیم کرلے وہ تو حق ہی سمجھا جائےگا۔مگر کافروں کے لئے فرمایا کہ اگر وہ دوزخ کی تکالیف کو برداشت نہ کرتے ہوئے اس میں سے نکلنا چاہیں گے تو نہیں نکل سکیں گے۔عربی زبان میں جو باء تاکید کے لئے آتی ہے اس کے معنے ہرگز کے ہوتے ہیں۔پس اس جگہ وَمَا ھُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ میں تاکید کے معنے پائے جاتے ہیں۔یعنی وہ اپنی ذاتی جد و جہد کے ساتھ جہنم میں سے ہرگز نکل نہیں سکیں گے۔ہاں جب خدا تعالیٰ چاہے گا تو انہیں دوزخ سے نکال لے گا۔جیسا کہ حدیثوں میں آتا ہے کہ جہنم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا جب کہ اُس میں کوئی بھی نہیں رہے گا اور ہوا اس کے دروازوں کو کھٹکھٹائے گی۔(کنز العمال کتاب القیٰمة ذکر النار وصفتھا) يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِي الْاَرْضِ حَلٰلًا طَيِّبًا١ۖٞ وَّ لَا اے لوگو! جو کچھ زمین میں ہے اس میں سے جو کچھ حلال اور پاکیزہ ہے (اسے) کھاؤ۔اور تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۰۰۱۶۹ شیطان کے قدم بقدم نہ چلو یقیناً وہ تمہارا کھلا (کھلا )دشمن ہے۔حل لغات۔طَیّبًا طَابَ سے صفت مشبّہ ہے اور طَیِّبٌ کے معنے ہیں اَلْحَلَالُ حلال۔اور جب