تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 89
اس کے معنی ہوئے جو رحم کے حقدار کو اس کے کام کی اچھی جزاء دیتا ہے اور بار بار اس پر رحم نازل کرتا جاتا ہے۔علم صرف کے زبردست امام ابو علی فارسی کہتے ہیں۔اَلرَّحْمٰنُ اِسْمٌ عَامٌ فِیْ جَمِیْعِ اَنْوَاعِ الرَّحْمَۃِ یَخْتَصُّ بِہِ اللّٰہُ تَعَالٰی وَالرَّحِیْمُ اِنَّمَا ھُوَ فِیْ جِہَۃِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ قَالَ تَعَالٰی کَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْـمًا (تفسیرفتح البیان زیر تفسیر سورۃ الفاتحۃ ) یعنی اَلرَّحْمٰن اسم عام ہے اورہر قسم کی رحمتوں پر مشتمل ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے مخصوص ہے اور اَلرَّحِیْم مومنوں کی ذات سے تعلّق رکھتا ہے یعنی اَلرَّحِیْم کی رحمت نیکو کاروں سے مخصوص ہے۔چنانچہ اس کا ثبوت قرآن کریم کی آیت وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا ہے۔(الاحز اب :۴۴) ابن مسعودؓ اور ابو سعید خدریؓ کی روایت ہے کہ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلرَّحْمٰنُ رَحْمٰنُ الدُّنْیَا۔وَالرَّحِیْمُ۔رَحِیْمُ الْاٰخِرَۃِ (تفسیر البحر المحیط زیرتفسیر سورۃ الفاتحۃ ) رسول کریم صلعم نے فرمایا کہ رحمٰن دُنیا کی رحمتوں پر نظر رکھتے ہوئے ہے اور الرَّحِیْم کا نام آخرت کی رحمتوں پر نظر کرتے ہوئے ہے۔اس سے بھی معلوم ہوا کہ رحمٰن کے معنے بلا مبادلہ اور بغیر استحقاق رحم کے ہیں کیونکہ اس قسم کا رحم زیادہ تر اس دُنیا میں جاری ہے اور رحیم کے معنی نیک کاموں کے اعلیٰ بدلہ کے ہیں کیونکہ آخرت مقامِ جزا ہے۔تفسیر۔یہ بتانے کے بعد کہ بنی اسرائیل نے اس موقع پر بھی جبکہ عظیم ترین احسان ان پر ہو رہا تھا خدا تعالیٰ کی شدید ترین نافرمانی کی۔فرماتا ہے کہ بنی اسرائیل کے ائمۃالکفر کو اس موقع کے لحاظ سے سزا دینی ضروری تھی کیونکہ ایسے عظیم الشان موقع پر شرک کا جُرم کلّی طور پر معاف کر دینا گناہوں پر دلیر کرنے کا موجب ہو سکتا تھا۔پس فرمایا کہ اے بنی اسرائیل تم نے اپنی جان پر شرک کر کے بڑا ظلم کیا ہے اس لئے اپنے بَارِیٔ کے حضور بہت توبہ کرو۔بَارِیٔ کے معنے جیسا کہ حَلِّ لُغَات میں بتائے گئے ہیں پیدا کرنیوالے کے ہیں۔لیکن خَالِقٌ کے لفظ سے اس کے معنو ں میں کچھ فرق ہے بَرَئَ کا لفظ عیب اور نقص سے پاک ہونے پر بھی دلالت کرتا ہے اس لئے ائمہ زبان نے اس کے معنے نقائص سے پاک خلق کے کئے ہیں چنانچہ زمخشری اپنی کتاب کشّاف میں لکھتے ہیں اَلْبَارِیُٔ ھُوَالَّذِیْ خَلَقَ الْخَلْقَ بَرِیْئًا مِّنَ التَّفَاوُتِ یعنی بَارِیٌٔ کے معنے ہیں وہ جس نے مخلوق کو اختلاف و نقصان سے پاک پیدا کیا ہو۔علاّمہ ابوحیّان نے بھی ان کے ان معنوں کی تعریف کی ہے اور علّامہ ابوحیّان علم نحو اور لغت کے ایک بہت بڑے ماہر ہیں اور ان کی تفسیر بحرالمحیط چوٹی کی تفسیروں میں سے ہے وہ زمخشری کے اس استدلال کے بارہ میں لکھتے ہیں کہ یہ استدلال کلام حسن ہے یعنی بہت لطیف استدلال ہے۔یہ استدلال علّامہ زمخشری کا