تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 88

کرتے ہیںاور کہہ دیتے ہیں کہ مَیں نے فلاں کو قتل کر دیا۔لسان العرب میں قَتَلَ کے معنی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲعلیہ و آلہٖ وسلم کے وصال پر جب خلافت کا انتخاب ہونے لگا تو بعض لوگوں نے اس وقت اختلاف کیا اور ان میں سے ایک سعد بھی تھے تو ان کے متعلق کہا گیا قَتَلَ اللہُ سَعْدًا فَاِنَّہٗ صَاحِبُ فِتْنَۃٍ وَ شَرٍّ کہ اﷲتعالیٰ سعد کو قتل کرے کیونکہ وہی فتنہ و فساد کی جڑ ہیں اور مطلب یہ تھا کہ دَفَعَ اللہُ شَرَّہٗ یعنی اﷲ تعالیٰ سعد کے شرّ کو دفع کرے اور اس کے ارادوں کو پورا نہ کرے۔اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا۔اُقْتُلُوْا سَعْدًا قَتَلَہُ اللہُ کہ سعد کو قتل کر دو اﷲ تعالیٰ اسے قتل کرے۔اور مطلب یہ تھا کہ اِجْعَلُوْہُ کَمَنْ قُتِلَ وَ احْسِبُوْہُ فِیْ عِدَادِ مَنْ مَاتَ وَھَلَکَ وَلَا تَعْتَدُّوْا بِمَشْھَدِہٖ وَلَا تُعَرِّجُوْا عَلٰی قَوْلِہٖ یعنی اے لوگو تم سعد کی طرف التفات نہ کرو بلکہ اپنی توجہ کو اس سے ہٹا کر اسے ایسا کر دو کہ گویا وہ مقتول ہے اور اس کو ان لوگوں میں شمار کرو جو مر چکے ہوں اور اس کو کسی گنِتی میں نہ لاؤ اور اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ بھی اس سے ایسا ہی سلوک کرے۔اسی طرح حضرت عمرؓ سے ایک حدیث مروی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ مَنْ دُ عِیَ اِلٰی اِمَارَۃِ نَفْسہٖ اَوْغَیْرِہٖ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فَاقْتُلُوْہُ اَیْ اِجْعَلُوْہُ کَمَنْ قُتِلَ وَمَاتَ بِاَنْ لَّا تَقْبِلُوْا لَہٗ قَوْلَہٗ وَلَا تُقِیْمُوْا لَہٗ دَعْوَۃً یعنی جو شخص اپنی خلافت یا اور کسی کی خلافت کا پروپیگنڈا کرے اور لوگوں کو کہے کہ اسے یا فلاں شخص کو خلیفہ بناؤ۔اس کو قتل کردو یعنی اس کی بات کو قبول نہ کرو اور مکمل طور پر اس سے قطع تعلق کر لو اور اسے اس ذریعہ سے ایسا کر دو کہ گویا وہ مقتول ہے۔اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے اِذَا بُوْیِعَ لِخَلِیْفَتَیْنِ فَاقْتُلُوا الْاَخِیْرَ مِنْھُمَا اَیْ اَبْطِلُوْا دَعْوَتَہٗ وَاجْعَلُوْہُ کَمَنْ مَاتَ کہ جب دو خلیفوں کی بیعت کی جاوے تو آخری کو قتل کر دو یعنی اس کی دعوت کی طرف کان نہ رکھو بلکہ اس سے قطع تعلق کر کے اسے قتل کئے جانے کے حکم میں کر دو۔(لسان) پس قَتَلَ کے عام مشہور معنوں کے علاوہ اس کے معنے ذلیل کرنے اور قطع تعلق کرنے کے بھی ہیں۔اَنْفُسَکُمْ۔اَنْفُسَکُمْ کے لئے دیکھو حَلِّ لُغَات آیت۴۵ سورئہ ھٰذا۔تَابَ۔تَابَ اِلَیْہِ وَعَلَیْہِ کے معنے ہیں رَجَعَ عَلَیْہِ بِفَضْلِہٖ اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوا۔(اقرب) اَلتَّوَّابُ۔تَوَّابٌ مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے معنے ہیں فضل کے ساتھ بہت متوجہ ہونے والا۔اَلرَّحِیْمُ۔اَلرَّحِیْمُبھی رَحِـمَ سے نکلا ہے اور فَعِیْلٌ کے وزن پر ہے جس کے معنوں میں تکرار اور استحقاق کے مطابق سلوک کا مفہوم پایا جاتا ہے۔(تفسیر البحر المحیط زیر تفسیر سورۃ الفاتحۃ ) پس