تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 81

میں فرق کر دیا گیا ہو۔مجاھد کا قول ابنِ جریر نے یہ لکھا ہے کہ فُرْقَان سے مراد کتاب ہی ہے اور اس کے معنے حق اور باطل میں فرق کرنے والے کے ہیں۔ابنِ جریر نے حضرت ابن عباس کا یہ قول لکھا ہے کہ فُرْقَان مجموعی نام ہے تورات، زبور، انجیل اور قرآن کا۔ابن زید سے ابنِ جریر نے یہ روایت کی ہے کہ فُرْقَان محمدرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو بھی ملا اور حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کو بھی مِلا۔بدر کے موقع پر خدا تعالیٰ نے مشرکوں اور مسلمانوں میں امتیاز کر کے دکھا دیا اور واقعۂ سمندر کے رو سے خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اُن کے دشمنوں میں فرق کر کے دکھا دیا۔علاّمہ قرُطبی لکھتے ہیں بعض لوگوں نے اس آیت کے معنے یہ کئے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کو تورات دی اور محمد صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو فرقان دیا۔اختصار کے طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ و سلم کا نام بیان نہیں کیا لیکن یہ معنے بالبداہت غلط ہیں اسی طرح وہ لکھتے ہیں جن لوگوں نے فرقان کے معنے کتاب کے کئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ کتاب کے بعد فرقان کا لفظ تاکید کے لئے استعمال کیا گیا ہے چنانچہ زَجَّاج کا یہی قول ہے اور یہی فَرَّاء نے بھی بیان کیا ہے۔بعضوں نے فُرْقانَ کے معنے مصیبت سے نجات کے کئے ہیں۔اور اس سے مراد مصر سے نکلنے کو لیا ہے اور ابنِ بحر نے کہا ہےکہ حجت اور بیان اس کے معنے ہیں۔بعض نے کہا ہے واؤزائد ہے۔اور فُرْقَانکتاب کی صفت ہے۔( تفسیر القرطبی زیر آیت ھذا ) کتاب اور فرقان دونوں ایک نہیں ہو سکتے خلاصہ ان حوالوں کا یہ ہے کہ فُرْقَان کے معنے حق و باطل میں تمیز کرنے کے ہیں۔آگے اس بات کی تعیین کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کی کس چیز کو خدا تعالیٰ نے حق و باطل میں تمیز کرنے والی قرار دیا ہے۔اس کے متعلق بعض نے یہ تاویل کی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کی کتاب کو ہی فرقان قرار دیا گیا ہے۔بعض نے غرقِ فرعون کو اور بعض نے مصر سے اُن کے بچ کر نکل آنے کو اس لفظ کا مستحق بتایا ہے۔لیکن میرے نزدیک کتاب اور فرقان کو ایک قرار دینا قرآن کریم کے دوسرے مقامات کو مدّنظر رکھ کر کچھ صحیح معلوم نہیں ہوتا۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِيَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ (الانبیاء :۴۹) یعنی ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرقان اور روشنی اور متقیوں کے لئے نصیحت عطا فرمائی تھی۔اس آیت میں فُرْقَان کے دینے میں حضرت ہارون علیہ ا لسلام کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔پس فرقان کے معنے تورات کے نہیں لئے جا سکتے۔قرآن کریم میں فرقان کے لفظ کا استعمال مختلف معنوں میں قرآن کریم میں فُرْقَان کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے (۱) فُرْقَان کا لفظ قرآن کریم کی نسبت بھی استعمال ہوا ہے جیسے سورۂ فرقان میں اﷲتعالیٰ فرماتا