تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 80
فَقْرَاتِ ظَہرکہلاتی ہے کیونکہ وہ بھی ہار کی شکل کی ہی ہوتی ہے یعنی الگ الگ ٹکڑوں کے اندر ایک سفید تاگا گزرتا ہے پھر دوسرا اجتماع ف ر ق کا قَرف اور قَفر کی شکل میں ہو سکتا ہے اِن میں بھی وہی دونوں معنے پائے جاتے ہیں یعنی جدائی اور اتصال کے معنے چنانچہ قَرْفٌ کے معنے چھلکے اُتارنے کے ہوتے ہیں جس میں جُدائی کا مفہوم پایا جاتا ہے اِسی طرح قَرْفٌ کے معنے زخم کو چھیلنے کے ہوتے ہیں۔قَرْفٌ کے معنے عیب لگانے کے ہوتے ہیں اور عیب گیری بھی تفرقہ پیدا کرتی ہے اسی طرح اور بھی چند معنے اس کے ہوتے ہیں۔مثلاً رشتہ داروں کے لئے مال کمانا اور چیزوں کو آپس میں مِلا دینا اور قَارَفَ کے معنے قریب ہو جانے کے ہوتے ہیں گویا ان معنوں میں بھی افتراق اور اِتصال دونوں معنے پائے جاتے ہیں۔اسی طرح قَفْرَ کے معنے کسی کے پیچھے چلنے کے ہوتے ہیں تَفَقَّر کے معنے جمع کرنے اور اَقْفَرَ کے معنے خالی ہو جانے کے ہوتے ہیں اور قَفْرٌ کے معنے جنگل کے ہوتے ہیں۔جو آبادیوں میں فاصلہ پیدا کر دیتا ہے اور قَفَارٌ اُس روٹی کو کہتے ہیں جس کے ساتھ سالن نہ ہو۔اب رہی ف ر ق کے اجتماع کی تیسری شکل۔سو وہ رِفْقٌ اور رقف ہے یعنی ر پہلے ہے اور ف ق یا ق ف بعد میں آتے ہیں۔رِفْقٌکے معنے نرمی کے ہیں جو اجتماع کا ذریعہ ہوتا ہے رِفْقٌ کے معنے باندھ لینے کے بھی ہوتے ہیں اور رَفِیْقٌ کے معنے ساتھی کے ہوتے ہیں اور رَفَاقت کے معنے دوستی کے ہوتے ہیں اسی طرح مِرْفَقٌ کہنی کو کہتے ہیں کیونکہ وہ دو ہڈیوں کو مِلاتی ہے۔رقف کانپنے کو کہتے ہیں جوڈر کا نتیجہ ہوتا ہے اور فَرَقَ کے ایک معنے بھی ڈر کے بتائے جا چکے ہیں پس ف ر ق سے جتنے الفاظ عربی زبان میں بنتے ہیں ان سب میں اتّصال یا افتراق کے معنے پائے جاتے ہیں۔اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ فرقان کا لفظ غیر زبان سے آیا ہے عربی زبان کا لفظ نہیں ہےبلکہ میں تو یہ بھی ثابت کر سکتا ہوں کہ اشتقاقِ اکبر کے لحاظ سے بھی فرقان کا لفظ عربی ہی ثابت ہوتا ہے یعنی ف ر ق کے مجموعہ میں ہی معنوں کا اشتراک نہیں پایا جاتا بلکہ اُن کے قریب المخارج الفاظ کے معنوں میں بھی فُرْقَان کے ساتھ اشتراک پایا جاتا ہے مثلاً ف کی جگہ واو رکھ دیں ر کی جگہ ل رکھ دیں ق کی جگہ ک رکھ دیں تب بھی بہت سے الفاظ میں معنوں کا اشتراک پایا جائے گا مگر چونکہ یہ تفسیر کی کتاب ہے ادبی کتاب نہیں اس لئے میں اس تفصیل میں پڑنا مناسب نہیں سمجھتا۔فرقان کے معنے جیسا کہ حَلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے فُرْقَان کے اصلی معنے تو فرق کر دینے یا دو چیزوں میں امتیاز کر دینے کے ہیں۔اب رہا یہ سوال کہ اس جگہ پر اسلامی اصطلاح میں فُرْقان کے کیا معنے ہیں۔سو یاد رکھنا چاہیئے کہ مختلف مفسّرین نے اس کے مختلف معنے کئے ہیں۔تفسیرجریر ، طبری جلد اوّل میں ابوالعالیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا فُرْقَان کے معنے ہیں بِمَا فُرِقَ بِہٖ بَیْنَ الْحَقِّ وَ الْبَاطِلِ یعنی ایسی چیز جس کے ذریعہ حق اور باطل