تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 48
اُس کا حق پورا نہ دیا (اقرب) نیز حد سے بڑھ جانے اور دوسرے کی ملکیت پر دست درازی کرنے کو بھی ظلم کہتے ہیں۔(اقرب) مفردات میں ہے کہ ظلم کی تین قسمیں ہیں (۱) ظُلْمٌ بَیْنَ الْاِنْسَانِ وَ بَیْنَ اللّٰہِ تَعَالٰی۔اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ظلم۔یعنی جو حقوق اللہ تعالیٰ کے بندے کے ذمہ ہیں وہ اس کو دینے کی بجائے دوسروں کو دیئے جائیں وَ اَعْظَمُہُ الْکُفْرُ وَالشِّرْکُ وَ النِّفَاقُ اوران معنوں کے لحاظ سے سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار کیا جائے۔اس کے ساتھ شریک قرار دیا جائے اور نفاق سے کام لیا جائے حالانکہ مناسب تو یہ ہے کہ اللہ کے احکام کو مانا جائے اور اس کی توحید کا اقرار کیا جائے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہےاِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ (لقمان:۱۴) کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے (۲) ظُلْمٌ بَیْنَہٗ وَ بَیْنَ النَّاسِ لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے پر ظلم کرنا۔(۳) ظُلْمٌ بَیْنَہٗ وَ بَیْنَ نَفْسِہٖ انسان کا اپنے نفس پر ظلم کرنا چنانچہ آیتفَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ (فاطر:۳۳) میں یہی ظلم مراد ہے۔(مفردات) پس ظالم کے معنے ہوں گے (۱) بے محل و بے موقع کام کرنے والا۔(۲) کسی کے حق کو کم دینے والا۔(۳) حد سے بڑھ جانے اور دوسرے کی ملکیت پر دست درازی کرنے والا۔(۴) شرک کرنے والا۔(۵) ظلم کرنے والا۔تفسیر۔بنی اسرائیل اور بچھڑے کی پرستش کا واقعہ اِس آیت میں ایک اور احسان کا ذکر ہے جس کی بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ناقدری کی اور احسان کو عذاب میں بدلنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔یہ واقعہ اس طرح ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ایک پہاڑ پر جو اُن کے سفر کے راستہ میں تھا۔کچھ دن الگ عبادت کریں اور خدا تعالیٰ کے خاص ارشادات سنیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اِس حکم کے ماتحت پہاڑ پر گئے۔بنی اسرائیل نے کچھ دنوں کے بعد محسوس کیا کہ انہیں دیر ہو گئی ہے اور سمجھے کہ موسیٰ ؑیا فوت ہو گئے ہیں یا کوئی اور ناگوارواقعہ ہوا ہے۔اس پر انہوں نے ان زیورات سے جو ان کے پاس تھے ایک سونے کا بچھڑا بنایا اور کہا یہ بچھڑا ان کا معبود ہے۔اور اس کی پرستش میں لگ گئے۔خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس کی خبر دی اور واپس جانے کا حکم دیا۔بائبل میں اِس واقعہ کا یوں ذکر آتا ہے۔’’ اور اس نے موسیٰ سے کہا کہ خداوند پاس چڑھ آ۔تو اور ہارون اور ندب اور ابیہو اور بنی اسرائیل کے بزرگوں سے ستر شخص۔تم دور سے سجدہ کرو اور موسیٰ اکیلا خداوند کے نزدیک آوے پر وَے نزدیک نہ آویں۔اَور لوگ اس کے ساتھ نہ چڑھیں۔‘‘ (خروج باب ۲۴ آیت ۱،۲)۔پھر لکھا ہے۔اس پر عمل کرتے وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام