تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 49
نے اپنی قوم کے بزرگوں سے کہا۔’’ تم ہمارے لئے یہاںجب تک کہ ہم تم پاس پھر آویںٹھیرو۔اور دیکھو کہ ہارون اور حور تمہارے ساتھ ہیں۔اگر کسی کو کچھ کام ہووے تو وہ ان کے پاس جاوے۔‘‘ (باب ۲۴ آیت ۱۴) پھر لکھا ہے۔’’ اور موسیٰ بدلی کے درمیان چلا گیا اور پہاڑ پر چڑھ گیا۔اور موسیٰ پہاڑ پر چالیس دن رات رہا۔‘‘ باب ۲۴ آیت ۱۸۔بنی اسرائیل کے بچھڑا بنانے کا واقعہ بائبل میں پھر لکھا ہے۔’’ جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰ پہاڑ سے اترنے میں دیری کرتا ہے تو وَے ہارون کے پاس جمع ہوئے اور اسے کہا کہ اُٹھ ہمارے لئے معبود بنا کہ ہمارے آگے چلیں۔کیونکہ یہ مرد موسیٰ جو ہمیں مصر کے ملک سے نکال لایا۔ہم نہیں جانتے کہ اسے کیا ہوا۔ہارون نے انہیں کہا کہ زیور سونے کے جو تمہاری جو رؤوں اور تمہارے بیٹوں کےاور تمہاری بیٹیوں کے کانوں میں ہیں توڑ توڑ کر مجھ پاس لاؤ۔چنانچہ سب لوگ سونے کے زیور جو اُن کے کانوں میں تھے توڑ توڑ کر ہارون کے پاس لائے اور اس نے ان کے ہاتھوں سے لیا اور ایک بچھڑا ڈھال کر اس کی صورت حکاّکی کے ہتھیار سے درست کی اور انہوں نے کہا کہ اے اسرائیل یہ تمہارا معبود ہے جو تمہیں مصر کے ملک سے نکال لایا اور جب ہارون نے یہ دیکھا تو اس کے آگے ایک قربانگاہ بنائی اور ہارون نے یہ کہہ کے منادی کی کہ کل خداوند کے لئے عید ہے۔اور وے صبح کو اُٹھے اور سو ختنی قربانیاں چڑھائیں اور سلامتی کی قربانیاں گزرانیں۔اور لوگ کھانے پینے کو بیٹھے اور کھیلنے کو اٹھے۔‘‘ (خروج باب ۳۲ آیت ۱ تا ۶) اوپر کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بائبل کے قول کے مطابق اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پہاڑ پر کچھ دن بسر کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے بنی اسرائیل کو اپنے بعد ہارون اور حور کی اطاعت کا حکم دیا۔کچھ عرصہ کے بعد بنی اسرائیل نے خیال کیا کہ شاید موسیٰ مر گئے ہیں کہ واپس نہیں لَوٹے۔اور ہارون نے کہا کہ ہمارے لئے کچھ بُت بناؤ۔انہوں نے فوراً اس پر آمادگی ظاہر کی اور انہیںاپنے زیورات لانے کو کہا۔جو وہ لے آئے۔اور ان زیورات سے ہارون نے اُن کے لئے ایک بچھڑا بنایا۔جس کے آگے ہارون کی مدد اور اعانت سے ان لوگوں نے قربانیاں گزرانیں۔بنی اسرائیل کے بچھڑا بنانے کا ذکر قرآنِ مجید میں قرآن کریم میں یہ واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے:۔’’ اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور پھر ان تیس راتوں کو دس راتیں اور بڑھا کر مکمل کر دیا اِس طرح اس کے رب کا وعدہ چالیس راتوں کی صورت میں مکمل ہو گیا۔‘‘ (الاعراف : ۱۴۳)