تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 506

ہے کہ اس جگہ مشرک اس شخص کو نہیں کہا گیا جو عرف عام میں شرک کا ارتکاب کرتا ہے بلکہ اس شخص کو کہا گیا ہے جو سلسلۂ رسالت کو مسدود قرار دیتا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی توحید کی اشاعت میںر وک بنتا ہے۔اور اس کے مقابل پر اپنے ایک فرضی عقیدہ کو لا کر کھڑا کر دیتا ہے حالانکہ اصل مقام اطاعت کا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جو کچھ کہے انسان اُسے مان لے اور ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے جو پیغامبر آئے اس کی آواز پر لبیک کہے۔قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ تم کہو کہ ہم اللہ پر اور جو کچھ ہماری طرف اتارا گیا ہے اور جو کچھ ابراہیم ؑ وَ اِسْمٰعِيْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِيَ اور اسماعیل ؑ اور اسحق ؑ اور یعقوب ؑ اور (اُس کی) اولاد پر اتارا گیا تھا اور جو کچھ موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑکو دیا گیا تھا۔(اسی مُوْسٰى وَ عِيْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ طرح)جو کچھ (باقی) انبیاء کو اُن کے ربّ کی طرف سے دیا گیا تھا۔(اس تمام وحی پر ) ایمان رکھتے ہیں۔ہم اُن میں بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖٞ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ۰۰۱۳۷ سےایک (نبی اور دوسرے نبی) کے درمیان(کوئی) بھی فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔حَل لُغَات۔اَ لْاَسْبَاطِ: سِبْطٌ کی جمع ہے۔اور سِبْطٌ کے معنے اصل میں پھیلائو کے ہوتے ہیں اسی وجہ سے لمبے بالوں کو سِبْطٌ کہتے ہیںسخی آدمی کو سِبْطُ الْکَفَّیْنِکہتے ہیں کیونکہ اس کا ہاتھ ہر ایک حاجت مند تک پہنچ جاتا ہے۔بیٹے کے بیٹے کوبھی سِبْطٌ کہتے ہیں (مفردات)کیونکہ جب بیٹوں کے بیٹے ہو جائیں تو نسل کا پھیلائو شروع ہو جاتا ہے پس اَسْبَاط کے معنے پوتوں کے ہوں گے یا اُن کی نسل کے جو حضرت یعقوب علیہ السلام کے خاندان کے پھیلانے کا باعث اور ذریعہ ہوئی۔تفسیر۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ مسلم وہ ہے جو خدا تعالیٰ کے تمام انبیاء پر ایمان لائے اور نفس نبوت کے لحاظ سے اُن میںـ کوئی فرق نہ کرے۔جن انبیاء کا اُسے علم ہو اُن کی نبوت کا نام لے کر اقرار کرے۔اور جو معلوم