تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 505
میں سے نہ تھے۔حنیف کے ساتھ ان الفاظ کی زیادتی اس حقیقت پر روشنی ڈالنے کے لئے کی گئی ہے کہ جو شخص الہام اور نبوت و رسالت کے سلسلہ کو بند کر کے ایک مقام پر کھڑا ہو جاتا ہے وہ حقیقتاً مشرک ہوتا ہے کیونکہ خدانمائی کا آئینہ اس کے انبیاء ہوتے ہیں اور اُنہیں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی حقیقی توحید دنیا میں جلوہ گر ہوتی ہے۔توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ خدا تعالیٰ کو ایک سمجھ لیا جائے بلکہ اُسے اپنی تمام صفات میں یکتا قرار دینا اور مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک قرار نہ دینا توحید کا ایک اہم حصّہ ہے۔جب کسی نبی کی بعثت پر ایک لمبا زمانہ گذر جاتا ہے تو توحید کا اقرار کرنے کے باوجود لوگ قسم قسم کے شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا حقیقی چہرہ لوگوں کی نگاہ سے مخفی ہو جاتا ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے پہلے تمام مسلمان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرتے تھے مگر اس کے باوجود وہ یہ عقیدہ بھی رکھتے تھے کہ مسیح علیہ السلام مُردوں کو زندہ کیا کرتے تھے۔پرندے پیدا کیا کرتے تھے۔اور علم غیب سے حصّہ رکھتے تھے اور ظاہر ہے کہ یہ تمام عقائد مشرکانہ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جہاں اور غلط عقائد کی اصلاح فرمائی وہاں آپ نے ان مشرکانہ عقائدکی بھی پُر زور تردید فرمائی اور خدا تعالیٰ کی توحید دنیا میں قائم کی۔پس انبیاء پر ایمان لائے بغیر توحید حقیقی کا قیام ناممکن ہے یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی ذات پر ایمان لانے کے ساتھ ہی نبیوں پر ایمان لانا بھی ضروری قراردیا ہے۔اگر یہ مقدس لوگ دنیا میں نہ آتے تو خدا تعالیٰ کا چہرہ لوگوں کو دکھائی نہ دیتا اور وہ ضلالت اور گمراہی سے نہ نکل سکتے۔پس چونکہ خدا تعالیٰ کی شناخت انبیاء پر ایمان لانے کے ساتھ وابستہ ہے اس لئے حنیف کے ساتھ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ کے الفاظ اس امر کی طرف توجہ دلانے کے لئے استعمال کئے گئے ہیں کہ ابراہیم ؑ مشرکوں میں سے نہ تھا بلکہ وہ سلسلہ نبوت کے دائمی اجراء کا قائل تھا۔اسی لئے اس آیت کے معاً بعد یہ کہا گیا ہے کہ تم اس بات کا اقرار کرو کہ ہم تمام انبیاء سابقین پر بھی ایمان لاتے ہیں وَ مَاۤ اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ اور جو کچھ اور نبیوں کو دیا گیا یا آئندہ دیا جائےگا اس پر بھی ایمان لاتے ہیں۔بے شک وَمَاکَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام شرک سے بالکل بیزار تھے اور ایک خدا کی پرستش کرتے تھے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ مشرکین نے خانہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بُت رکھے ہوئے تھے پھر بھی کسی بُت کی نسبت اُن کا یہ عقیدہ نہیں تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کی پرستش کیا کرتے تھے بلکہ وہ آپ کو کامل موحد تسلیم کرتے تھے۔اور ان کی قدیم روایات اس کی تصدیق کرتی تھیں۔اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان حالات میں بھی جو بائیبل میں موجود ہیں شرک کی تعلیم کا کوئی شائبہ تک نظر نہیں آتا۔مگر یہ صرف اس ٹکڑہ کے ایک معنے ہیں جو اپنی جگہ درست ہیں لیکن حنیف کے ساتھ وَ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ کا اضافہ بتا رہا