تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 507

نہیں اُن کی نبوت پر مجملاً ایمان لائے۔یعنی یہ یقین کرے کہ ہر قوم میں خدا تعالیٰ کا کوئی نہ کوئی نبی ضرور آیا ہے اور ہم سب کو سچا تسلیم کرتے ہیں۔اور ان کی پیش کردہ تعلیموں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مانتے ہیں۔پس جو شخص اپنے زمانہ یا اس سے پہلے زمانہ کے سب نبیوں کی نبوت کا اقرار کرے اور کسی نبی کا انکار نہ کرے وہ مسلم ہے۔کیونکہ تمام نبیوں کی نبوت کا اقرار کرانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ فقرہ فرمایا ہے کہ نَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ۔ہم اسکے فرمانبردار ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے۔کہ اس اقرار کے بعد انسان مسلم بنتا ہے۔اوریہ صرف اسلام ہی کی خصوصیت ہے کہ وہ دنیا کے تمام انبیاء کی صداقت کا اقرار کرتا ہے۔ہر مذہب کے پیرو اپنے اپنے مذہب کے نبیوں کی صداقت تو منواتے ہیں۔لیکن دوسری اقوام کے انبیاء کی صداقت منوانے کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے۔اسلام سب انبیاء کی صداقت کا اقرار کراتا ہے۔خواہ وہ بنی اسرائیل میں آئے ہوں یا ہندوایران کے لوگوں میں مبعوث ہوئے ہوں یا دنیا کے کسی اور ملک میں اصلاح کیلئے کھڑے کئے گئے ہوں مگر اس سے تفصیلی ایمان نہیں بلکہ صرف اجمالی ایمان مراد ہے۔اگر تفصیلی ایمان مراد ہوتا تو وَ مَاۤ اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ فرما کر اُن نبیوں کا ذکر نہ کیا جاتا جن کا نام بھی ہمیں معلوم نہیں اور جن کے حالات کا قرآن کریم نے کہیں ذکر نہیں کیا۔مگر پھر بھی اجمالی طور پر اُن پر ایمان لانا ضرور ی قرار دیا ہے۔میں اس موقعہ پر مسلمانوں کو بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے جو سب نبیوں کو مانے وہی مسلم ہے۔اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے مسیح کو نبی اللہ قرار دیتے ہیںاور اس زمانہ میں مسیحیت موعودہ کا وعدہ بانی سلسلہ احمدیہ کے وجود میں پورا ہو چکا ہے۔پس ہر شخص جو اسلام سے اپنے آپ کو وابستہ کرتا ہے اُس کا فرض ہے کہ وہ ہوشیار ہو جائے اور بے توجہی سے آپ کے دعویٰ کو نہ دیکھے۔کیونکہ بے توجہی سے اسلام جیسی قیمتی چیز ہاتھ سے جانے کا اندیشہ ہے۔مسلم وہی ہے جو خدا تعالیٰ کے تمام نبیوں کو مانے اور مسیح موعود کی نبوت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔پس مسلمانوں کیلئے ہوشیار ہونے کی ضرورت ہے۔لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ۔اِس آیت کے یہ معنے نہیں کہ ہم انبیاء کے درجات میں فرق نہیں کرتے۔کیونکہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر فرمایا ہے کہ تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ (البقرۃ:۲۵۴)یعنی یہ رسول ہیں جن میں سے بعض کو بعض پر ہم نے فضیلت بخشی تھی۔پس اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ ہم سب نبیوں کو درجہ اور مقام کے لحاظ سے ایک جیسا سمجھتے ہیں۔بلکہ صرف یہ مطلب ہے کہ اُن پر ایمان لانے کے لحاظ سے ہم اُن میں کوئی فرق نہیں کرتے چاہے وہ شرعی نبی تھے یا غیر شرعی۔ورنہ درجوں کا فرق تو خود قرآن کریم نے تسلیم کیا ہے۔مسیحی مصنّف اِس آیت پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ حضرت اسما عیل علیہ السلام نبی نہ تھے مگر قرآن نے