تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 471
نمازیں مسجد میں ادا کرے۔جو شخص تہجد نہیں پڑھتا اس کے لئے سب سے بڑی نیکی تہجد پڑھنا ہے۔جو شخص ماں باپ کی خدمت نہیں کرتا۔اس کے لئے سب سے بڑی نیکی ماں باپ کی خدمت کرنا ہے۔غرض نیکی کا جو کام کسی کے نفس پر بوجھل ہو وہی اس کے لئے سب سے بڑی نیکی ہے اسی طرح جس چیز کی ضرورت دوسروں پر مقدم سمجھی جائے وہی سب سے بڑی نیکی ہے نماز کے وقت نماز ہی سب سے بڑی نیکی ہے۔اور روزہ کے وقت روزہ ہی سب سے بڑی نیکی ہے۔غرض انسان کے لئے مختلف اوقات میں مختلف بڑی نیکیاں ہوتی ہیں اسی طرح مختلف اقوام اور افراد اور زمانوں کے لحاظ سے بھی سب سے بڑی نیکی کی تعیین مختلف ہوتی چلی جاتی ہے جس قوم یا جس فرد یا جس زمانہ کے لئے جس نیکی کی ضرورت ہو وہی اس کے لئے بڑی بن جاتی ہے اور اس پر عمل اُسے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا مستحق بنا دیتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اسی نکتہ کو مدّنظر رکھتے ہوئے دعا کرتے ہیں کہ الٰہی ہم کمزور اور ناطاقت ہیں اور ہم پوری طرح تیری عبادت بجا لانے سے قاصر ہیں تو آپ ہم پر رحم کیجیئو اور ہمارے مناسب حال عبادت کے طریق بتائیو۔ہم سے یہ بوجھ نہیں اُٹھایا جاتا۔وَتُبْ عَلَیْنَا۔مگر اس الہام کے باوجود جو یہ بتاتا رہے کہ کس طرح اس گھر کو آباد رکھنا چاہیے اے خدا! ہم تیرے بندے ہیں ہم نے غلطیاں بھی کرنی ہیں اس لئے تو ہمیں معاف کر دیا کر۔اور ہمارے گناہوں سے درگذر کرتا رہ۔اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ تو بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے۔توّاب اور رحیم نام اس لئے لائے گئے ہیں کہ بندہ خواہ کتنی بھی نیک نیتی کے ساتھ کام کرے وہ غلطی کر جاتا ہے۔ایسی حالت میں توّابیّت اُس کے کام آتی ہے اور اگر اچھا کام کرے تو رحیمیّت اُس کے کام آتی ہے۔رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ اور اے ہمارے رب! (ہماری یہ بھی التجا ءہے کہ ) تو انہی میں سے ایک ایسا رسول مبعوث فرما جو انہیں تیری آیات پڑھ کر الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُؒ۰۰۱۳۰ سنائے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے یقیناً تو ہی غالب (اور) حکمتوں والا ہے۔حَلّ لُغَات۔اٰیٰتٌ۔اٰیَـۃٌ کالفظ اٰوٰی سے نکلا ہے جس کے معنے ہیں ’’جگہ دی‘‘ (۲) اسی طرح ہر وہ کلام