تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 470
ہے تو صفت رحیمیّت کادور دورہ ہو جاتا ہے۔تفسیر۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام دعا مانگتے ہوئے فرماتے ہیں۔اے خدا! اس گھر کی آبادی تیرے بندوں سے وابستہ ہے۔مگر محض لوگوں کی آبادی کوئی چیز نہیں۔اصل چیز یہ ہے کہ اس سے تعلق رکھنے والے نیک ہوں۔پس ہم جو بیت اللہ کو بنانے والے ہیں اور جو دو۲ افراد ہیںہماری پہلی دُعا تو یہ ہے کہ تو خود ہمیں نیک بنا وَ مِنْ ذُرِّيَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ اور پھر ہماری اولاد میں سے ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے جو تیرا مطیع اور فرمانبردار ہو۔وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا اور ہمارے مناسب حال ہمیں عبادت کے طریق بتا۔اصل بات یہ ہے کہ انسان کے دل میں خواہ کتنا ہی اخلاص ہو۔اگر اسے طریق معلوم نہ ہو کہ کس طرح کسی گھر کو آباد رکھنا ہے تو پھر بھی وہ غلطی کر سکتا ہے۔اس لئے وہ دعا کرتے ہیں کہ اے خدا نہ صرف ہمارے دلوں میں ایمان قائم رکھ بلکہ وقتاً فوقتاً ہمیں یہ بھی بتاتا رہیو کہ ہم نے کس طرح اسے آباد رکھنا ہے اور ہم وہ کونسا طریق عبادت اختیار کریں جس سے تو خوش ہو اور یہ گھر آباد رہ سکے۔اس دعا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اَرِنَا الْمَنَا سِکَ کہنے کی بجائے مَنَاسِکَنَا کہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ہر زمانہ کے حالات بدلتے رہتے ہیں اور کامل مومن وہی ہوتا ہے جو ان فرائض کو سمجھنے کی کوشش کرے جو بدلے ہوئے حالات کے مطابق اُس پر عائد ہوتے ہیں محض ایک پرانی لکیر پر چلتے چلے جانا اور حالات کے تغیّر کو مدّنظر نہ رکھنا انسان کو کسی ثواب کا مستحق نہیں بناتا۔افسوس ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں نے بھی اس نکتہ کو نہ سمجھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جہاد بالسیف پر ہی زور دیتے رہے حالانکہ زمانہ اُن سے تلوار کے جہاد کا نہیں بلکہ زبان اور قلم کے جہاد کا مطالبہ کر رہا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام دُعا کرتے ہیں کہ الٰہی جو نیکی جس وقت کے مناسب حال ہو اس کو سرانجام دینے کی ہمیں توفیق عطا فرما اور اس بارہ میں ہمیشہ ہماری رہنمائی فرما۔حدیثوں میں آتا ہے ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! سب سے بڑی نیکی کون سی ہے۔آپؐ نے فرمایا سب سے بڑی نیکی تہجد ہے۔پھر کسی اور نے آپؐ سے پوچھا کہ سب سے بڑی نیکی کون سی ہے۔توآپؐ نے فرمایا جہاد سب سے بڑی نیکی ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہر شخص کے لئے الگ الگ بڑی نیکیاں ہیں۔جوشخص جہاد نہیں کرتا اس کے لئے جہاد ہی سب سے بڑی نیکی ہے اور جو شخص کبرونخوت سے بھرا ہوا ہو اس کے لئے سب سے بڑی نیکی یہی ہے کہ وہ کبر ونخوت چھوڑ دے۔جو شخص نیند کا متوالا ہے او ر اس وجہ سے عشاء اور صبح کی نمازیں مسجد میں ادا نہیں کر سکتا۔اس کے لئے سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ وہ نیند دور کرے۔اور