تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 460
منکرین توحید کو اپنی دعا سے خارج کر دیا اور صرف اُن لوگوں تک اپنی دعا کو محدود کر دیا جو خدااور یومِ آخرت پر ایمان رکھنے والے ہوں اور دُعا یہ کی کہ وَارْزُقْ اَھْلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ یعنی اے خدا میں تجھ سے ان کے لئے جمعرات کی روٹی نہیں مانگتا۔َمیں تجھ سے اُن کے لئے چاول نہیں مانگتا۔میں تجھ سے ان کے لئے زردہ اور پلائو نہیں مانگتا بلکہ میںیہ مانگتا ہوں کہ یہ جگہ جہاں گھاس کی ایک پتی بھی پیدا نہیں ہوتی اس جگہ دنیا بھر کے میوے آئیں اور یہ اُن میووں کو یہاں بیٹھ کر کھائیں۔تو روٹی دیگا تو میں نہیں مانوں گا کہ تو نے اپنی خدائی کا ثبوت دیا۔تو زردہ اور پلائو کھلائےگا تو میں نہیں مانونگا کہ تو نے اپنی خدائی کا ثبوت دیا ہے۔میں تیری خدائی کا ثبوت تب مانوں گا جب یہ مکّہ میں بیٹھ کر چین اور جاپان اور یورپ اور امریکہ کے میوے کھائیں تب میں تسلیم کرونگا کہ تو نے اپنی خدائی کا ثبوت دے دیاہے میں نے بندہ ہو کر ایک انتہائی قربانی کی ہے۔اب اے خدا میں تیری خدائی کو بھی دیکھنا چاہتا ہوں اور وہ بھی اس رنگ میں کہ اس وادیءِ غیر ذی زرع میں دنیا کا ہر بہترین پھل تو انہیں پہنچا۔خدا تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کے اس چیلنج کو قبول کیا۔اور اس نے کہا اے ابراہیم ؑ ! تو نے اپنی اولاد کو ایک وادی غیر ذی زرع میں لا کر بسایا ہے اور مجھ سے کہا ہے کہ میں نے اپنا بیٹا قربان کردیا ہے اب تو بھی اپنی خدائی کا ثبوت دے۔تُو نے کہا ہے کہ میں نے ایک عاجز بندہ ہو کر اپنی بندگی کا ثبوت دیا۔اب اے خدا تو بھی اپنی خدائی کا ثبوت دے۔اور تو نے ثبوت یہ مانگا ہے کہ یہ نہ کمائیں بلکہ بنی نوع انسان کمائیں اور انہیں کھلائیں۔اور کھلائیں بھی معمولی چیزیں نہیں بلکہ دنیا بھر کے میوے ان کے پاس پہنچیں۔میں تیرے اس چیلنچ کو قبول کرتا ہوں اور میں اس وادی غیرذی زرع میں جہاں گھاس کی ایک پتی بھی نہیں اُگتی تجھے ایسا ہی کر کے دکھائوںگا۔میں نے حج کے موقعہ پر خود اس کا تجربہ کیا ہے میں نے مکّہ مکرمہ میں ہندوستان کے گنّےدیکھے ہیں۔میں نے مکّہ مکرمہ میں طائف کے انگور کھائے ہیں۔میں نے مکہ مکرمہ میں اعلیٰ درجہ کے انار کھائے ہیں۔گنّے کے متعلق تو مجھے یاد نہیں کہ میری طبیعت پر اس کے متعلق کیا اثر تھا لیکن انگوروں اور اناروں کے متعلق میں شہادت دے سکتا ہوں کہ ویسے اعلیٰ درجہ کے انگور اور انار میں نے اور کہیں نہیں کھائے۔میں یورپ بھی گیا ہوں۔میں شام بھی گیا ہوں۔میں فلسطین بھی گیا ہوں۔اٹلی کا ملک انگوروں کے لئے بہت مشہور ہے۔یورپ کے لوگ کہتے ہیں کہ بہترین انگور اٹلی میں ہوتے ہیں۔مگر میں نے اٹلی کے لوگوں سے کہا کہ مکّہ کی وادی غیر ذی زرع میں ابراہیمی پیشگوئی کے ماتحت جو انگور میں نے کھائے ہیں وہ اٹلی کے انگوروں سے بہت زیادہ میٹھے اور بہت زیادہ لذیذ تھے۔ہمارے اردگرد قندھار، کوئٹہ اور کابل کا انار مشہور ہے۔مگر میں نے جو موٹا سُرخ شیریں اور لذیذ انار مکّہ میں کھایا ہے اس کا سینکڑواں حصّہ بھی قندھار اور کوئٹہ اور کابل کا انار نہیں۔غرض حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا۔