تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 461

اے خدا میں نے اپنی بندگی کا انتہائی ثبوت دےدیا ہے۔اب تجھ سے میں درخواست کرتا ہوں کہ تو بھی اپنی خدائی کا ثبوت دے اور وہ ثبوت میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ یہ نہ کمائیں بلکہ لوگ کما کر ان کے پاس لائیں اور لائیں بھی معمولی چیزیں نہیں بلکہ دنیا بھر کے بہترین پھل اور میوے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وَارْزُقْ اَھْلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِکی دُعا مانگ کر درحقیقت مکّہ والوں کے لئے انتہا درجہ کے ترفّہ کے لئے دعا کر دی۔کیونکہ مکّہ میں ثمرات کا مہیا ہونا ناممکن تھا۔وہاں کوئی کھیتی باڑی نہیں ہو سکتی تھی۔اور پھلوں کا دُور سے آنا ناممکن تھا۔کیونکہ ثمرات کا تازہ بتازہ اور عمدہ ہونا ضروری ہوتا ہے مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دُعا کی کہ الٰہی یہ لوگ ان چیزوں سے بھی محروم نہ ہوں تاکہ وہ یہ خیال نہ کریں کہ ہم اِن ثمرات سے اس وجہ سے محروم ہیں کہ ہم دنیا سے کٹ کر صرف اس گھر کے ہی ہو کر رہ گئے ہیں۔پس ایسی نازک اشیاء بھی یہاں پہنچ جائیں تاکہ دنیا پر حجت ہو کہ خدا تعالیٰ نے جنگل میں منگل کر دیا۔چنانچہ اس ابراہیمی دعا کی برکت سے ہر قسم کا تازہ بتازہ پھل مکہ والوں کو میسر آرہا ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ میں نے خود حج کے موقعہ پر مکہ مکرمہ میں نہایت شیریں انار دیکھے ہیں اور انگور ایسے اعلیٰ درجہ کے کھائے ہیں کہ اٹلی اور فرانس کا انگور اس کے مقابلہ میں ایسا ہوتا ہے جیسا کہ کابلی انگور کے مقابلہ پر پنچابی انگور۔غرضیکہ تمام اعلیٰ درجہ کی چیزیں مکّہ میں میّسرآجاتی ہیں۔ایک دفعہ حج کے موقعہ پر گرمی کی شدت کی وجہ سے ایک بزرگ نے خواہش کی کہ اگر برف ہوتی تو میں ستّو پیتا۔چنانچہ انہوں نے دعا کی کہ الٰہی یہ تیراگھر ہے اور تیرا وعدہ ہے کہ میں یہاں کے رہنے والوں کو ہر قسم کا رزق عطا کروں گا۔سو تو اپنے فضل سے میرے لئے برف مہیا فرما دے۔خدا تعالیٰ نے اولے برسا دیئے جو لوگوں نے جمع کر لئے اور انہوں نے برف ڈال کر ستّو پیئے۔غرض حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی کہ جو لوگ یہاں رہیں گے ایسا نہ ہو کہ وہ یہ خیال کریں کہ ہم خدا تعالیٰ کے گھر کی خدمت کی وجہ سے ان نعمتوں سے جو دوسروں کو میّسر ہیں محروم ہو گئے ہیں اس لئے اے خدا تو انہیں ہرقسم کے اعلیٰ درجہ کے پھل کھلا۔اور انہیں اپنے انعامات سے متمتع فرماتاکہ ان کو یہ نظر نہ آئے کہ ہم اس گھر کے لئے قربانیاں کر رہے ہیں بلکہ یہ نظر آئے کہ ہمیں خدا تعالیٰ اپنے انعامات سے حصہ دے رہا ہے۔یہاں بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کے آرام کے لئے دعائیں مانگی ہیں لیکن درحقیقت انہوں نے خدا تعالیٰ کی غیرت بھڑکا نے کے لئے یہ دعائیں کی ہیں چونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ طَهِّرَا بَيْتِيَ۔اس لئے ان کے دل میں خیال آیا کہ آئندہ آنے والے یہ نہ سمجھیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر احسان کر رہے ہیں اور ایک بے آب و گیاہ جگہ میں آکرخدا تعالیٰ کے گھر کی حفاظت کر رہے ہیں بلکہ وہ یہ محسوس کریں کہ خدا تعالیٰ ہم پر احسان کر رہا ہے۔اس لئے