تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 456
الہٰی کرنے کی بجائے لوگ اِدھر اُدھر کی گپیں ہانکتے رہتے ہیں حالانکہ مسجدیں خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہیں بیشک ضرورت محسوس ہونے پر مذہبی ،سیاسی ، قضائی اور تمدنی امور پر بھی مساجد میں گفتگو کی جا سکتی ہے لیکن مساجد میں بیٹھ کر گپیں ہانکنا اور اِدھر اُدھر کی فضول باتیں کرنا سخت ناپسندیدہ امر ہے۔نوجوانوں کو خصوصیت کے ساتھ اس بارہ میں محتاط رہنا چاہیے۔طَهِّرَا بَيْتِيَ میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ایک زمانہ میں لوگوں نے اس کے اندر بُت رکھ دینے ہیں۔تمہارا کام یہ ہے کہ تم ان بُتوں کو نکالو اور بیت اللہ کو پاک و صاف کرو۔لُغت کی رو سے بھی نجاست ظاہری اور باطنی دونوں کو دُور کرنے کے لئے تطھیر کا لفظ استعمال ہوتاہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ و سلم نے بیت اللہ کی تطہیر کی اور تین سو ساٹھ بتوں سے اس کو پاک کر دیا(السیرة النبویۃ لابن ہشام، ذکر فتح مکة)۔آپ کا یہ فعل اسی وصیت کے مطابق تھا جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور اسمٰعیل علیہما السلام کو فرمائی تھی کہطَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّآىِٕفِيْنَ وَ الْعٰكِفِيْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ۔یہ سورۃ ہجرت کے بعد نازل ہوئی تھی اور وہ ایسا وقت تھا کہ مسلمان مدینہ میں بھی محفوظ نہ تھے۔مگر خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تمام دنیا جو اس وقت متفرق ہے وہ اس مرکز پر جمع ہو جائے گی چنانچہ دیکھ لو۔اب ساری دنیا سے لوگ حج کے لئے جاتے ہیں اور ادھر مُنہ کر کے نماز پڑھتے ہیں اس سے بڑھ کر آپ کی صداقت کا اور کیا نشان ہو سکتا ہے۔وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اور (اس و قت کو بھی یاد کرو) جب ابراہیم ؑنے کہا تھا کہ اے میرے رب! اس (جگہ) کو ایک پرُامن شہر بنادے اور اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اس کے باشندوں میں سے جو بھی اللہ پر اور آنے والے دن پر ایمان لائیں انہیں (ہرقسم کے) پھل عطا فرما۔(اس پر اللہ نے) قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِيْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ فرمایا۔اور جو شخص کفر کرے اسے بھی میں تھوڑی مدت تک فائدہ پہنچائوں گا پھر اسے مجبور کر کے دوزخ کے عذاب کی