تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 455

چاہتا ہے کہ تم خانہ کعبہ کی نقلیں بنائوجس میں تم اور تمہاری اولادیں اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کر کے بیٹھ جائیں۔جس طرح وہ لوگ جو ابراہیم ؑ کے نمونہ پر چلیں گے۔ابراہیم ؑ کی اولاد اور اس کا ظلّ ہوں گے۔اسی طرح یہ نقلیں خانہ کعبہ کی اولاد ہونگی۔خانہ کعبہ کی ظلّاور اس کا نمونہ ہوں گی۔اور حقیقت یہ ہے کہ جب تک خانہ کعبہ کے ظلّدنیا کے گوشہ گوشہ میں قائم نہ کر دیئے جائیں اُس وقت تک دین کبھی پھیل ہی نہیں سکتا۔پس فرماتا ہے۔وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى اے بنی نوع انسان! ہم تم کو توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ تم بھی ابراہیمی مقام پر کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادتیں کرو یعنی ایسی مراکز بنائو جو دین کی اشاعت کا کام دیں کیونکہ اس کے بغیر اسلام کی کامل اشاعت کبھی نہیں ہو سکتی۔وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّآىِٕفِيْنَ وَ الْعٰكِفِيْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ اب بتاتا ہے کہ وہ مقامِ ابراہیم کیا چیز ہے ؟ فرماتا ہے۔وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِيْلَ اور ہم نے ابراہیم ؑ اور اسمٰعیل ؑ کو بڑی پکی نصیحت کی تھی۔عَھِدَ بِہٖ کے معنے ہوتے ہیں اس نے فلاں کے ساتھ عہد کیا۔لیکن عَھِدَ کے ساتھ جب اِلٰی کا صِلہ آئے تو اس کے معنے ہوتے ہیں پکّی نصیحت کرنا یا وصیت کرنا پس فرماتا ہے وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِيْلَ ہم نے ابراہیم ؑاور اسمٰعیل کو بار بار نصیحت کی تھی اور بار بار اس بات کی طرف توجہ دلائی اور تاکیدی حکم دیا اَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ کہ تم دونوں میرے گھر کو پاک کرو اور اسے ہر قسم کے عیبوں اور خرابیوں سے بچائو۔لِلطَّآىِٕفِيْنَ ا ن لوگوں کے لئے جو اس کے اردگرد طواف کرنیوالے ہیں یا اُن لوگوں کے لئے جو اس جگہ بار بار آنے والے ہیں۔وَ الْعٰكِفِيْنَ اور ان لوگوں کے لئے جو اعتکاف کے لئے آئیں یا اپنی زندگی وقف کر کے یہیں بیٹھ جائیں۔طائفین وہ لوگ ہیں جو کبھی کبھی آئیں اور عاکفین وہ ہیں جو اپنی زندگی اس گھر کے لئے وقف کردیں۔وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ اور ان لوگوں کے لئے جو خدا تعالیٰ کی توحید کے قیام کے لئے کھڑے رہتے ہیں اور اس کی فرمانبرداری میں اپنی ساری زندگی خرچ کرتے ہیں یا ان لوگوں کے لئے جو رکوع و سجود کرتے ہیں۔اس جگہ رکوع و سجود سے ظاہری اور قلبی دونوں رکوع و سجود مراد ہیں۔یعنی وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ سے وہ لوگ بھی مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے اور اس کے حضور رکوع اور سجدہ کرنے والے ہوں۔اور وہ لوگ بھی مراد ہیں جو خدا تعالیٰ کی توحید پر ایمان رکھنے والے ہوں اور جو اس کے کامل فرمانبردار ہوں۔اسی طرح تطہیر کے بھی دونوں مفہوم ہیں اس سے مراد ظاہری صفائی بھی ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ مساجد کو صاف رکھو اور اس میں عود وغیرہ جلاتے رہواور اس سے باطنی صفائی بھی مراد ہو سکتی ہے یعنی مسجد کی حرمت کا خیال رکھو۔اور اس میں بیٹھنے کے بعد لغو یات سے کنارہ کش رہو۔افسوس ہے کہ آجکل مساجد میں ذکر