تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 454
پھر اس حکم میں اللہ تعالیٰ نے اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔اور یہ ہدایت دی ہے کہ تمہارا بھی ایک امام ہونا چاہیے تاکہ اِس طرح سنتِ ابراہیمی تم میں زندہ رہے۔درحقیقت اِن دونوں آیات میں دو ۲امامتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔پہلے فرمایا کہ۔اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۔اے ابراہیم میں تجھے امام بنانے والا ہوں۔اس پر ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا کہ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ اے خدا !میری ذرّیت کو بھی اس مقام سے سرفراز فرما۔کیونکہ اگر َمیں مرگیا تو کام کس طرح چلے گا۔خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تیری اولاد میں سے تو ظالم بھی ہونے والے ہیں۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ان ظالموں کے سپرد یہ کام کیا جائے۔ہاں ہم تمہاری اولاد کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ سنّتِ ابراہیمی کو ہمیشہ قائم رکھیں جو لوگ ایسا کرینگے ہم اُن میں سے امام بناتے جائیں گے اور وہ خدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ انعامات سے حصّہ لیتے چلے جائیں گے۔پس اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے دو۲ امامتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ایک امامتِ نبوت کا جو خدا تعالیٰ کی طرف براہ راست ملتی ہے اور دوسری امامتِ خلافت کا جس میں بندوں کا بھی دخل ہوتا ہے۔اور جس کی طرف وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى میں اشارہ کیا گیا ہے۔اور بنی نوع انسان کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ جب امامتِ نبوت نہ ہو تو اُن کا فرض ہے کہ وہ امامت خلافت کو اپنے اندر قائم رکھا کریں۔پھر وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى میں دنیا کے تمام اہم مقامات اور شہروں میں ایسے تبلیغی مراکز قائم کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے جو خانہ کعبہ کی ظلّیت میں اشاعت اسلام کے مراکز ہوں اور جہاں بیٹھ کر عبادتِ الٰہی کو قائم کیا جائے اور توحید کی اشاعت کی جائے۔اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو مخاطب کرتا اور انہیں فرماتا ہے کہ اے لوگو جو خانہ کعبہ کے شیدائی بنتے ہو۔جو بیت اللہ کی محبت کا دم بھرتے ہو۔تم ہر ایک چیز جو تمہیں پسند آتی ہے اس کی تصویر اپنے گھروں میں رکھنا پسند کرتے ہو۔اگر کوئی پھل تمہیں پسند ہو تو تم اُسے اپنے گھر لاتے اوراپنی بیوی بچوں کو کھلانے کی کوشش کرتے ہو۔جب تم بازار میں خربوزہ دیکھ کر اُسے اپنے گھر میں لاتے ہو جب تم کسی اچھے نظارہ کو دیکھتے ہو تو اس کی تصویر کھینچتے اور اپنے بیوی بچوں کو بھی دکھاتے ہو تو کیا وجہ ہے کیاسبب ہے، اور اس میں کونسی معقولیت ہے کہ تم اپنے مونہوں سے تو خانہ کعبہ کی تعریفیں کرتے ہو۔اپنے مونہوں سے تو خانہ کعبہ کے احترام کا اظہار کرتے ہو لیکن تم ایک خربوزے کو تو گھر میں لانے کی کوشش کرتے ہو۔تم تاج محل کو دیکھتے ہو تو اس کی تصویر لینے کی کوشش کرتے ہو مگر تم خانہ کعبہ کے ظلّ کو اپنے ملک اور اپنے علاقہ میں لانے کی کوشش نہیں کرتے۔خانہ کعبہ کیا ہے؟ ایک گھر ہے جو خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے وقف ہے۔مگر ظاہر ہے کہ ساری دنیا کے انسان خانہ کعبہ میں نہیں جا سکتے۔پس جس طرح خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ابراہیم ؑ کی نقلیں دنیا میں پیدا ہوں اسی طرح وہ یہ بھی