تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 449
کی وجہ سے تمام دنیا کو ایک نقطۂ اتحاد پر جمع کرنے کا ذریعہ ہے۔غرض خانہ کعبہ ہی حقیقی اور کامل گھر ہے جس میں وہ تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں جو ایک گھر میں پائی جانی چاہئیں۔مَثَا بَۃً لِّلنَّاسِ: مَثَابَةَکے معنے تفرقہ کے بعد اکٹھے ہونے کی جگہ کے ہیں اس میں بتایا کہ بیت اللہ کا قیام اس لئے عمل میں آیا ہے کہ ساری دنیا کو ایک مرکز پر جمع کردیا جائے اوروہ لوگ جو متفرق ہو چکے ہیں اس گھر کے ذریعہ پھر اکٹھے کر دیئے جائیں۔یعنی ایک عالمگیر مذہب کا اس کے ساتھ تعلق ہے اور ساری دنیا کو یہ گھر جمع کرنے کا ذریعہ ہو گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مختلف انبیاء نے اپنے اپنے زمانہ میں اتحاد پیدا کیا ہے۔مگر جہاں وہ ایک ایک قوم کے درمیان اتحاد پیدا کرتے وہاں وہ دنیا میں اختلاف بھی پیدا کرتے تھے۔جیسے بنی اسرائیل کے لئے ضروری تھا کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پیچھے چلیں۔حضرت کرشنؑ کے متبعین کے لئے ضروری تھا کہ وہ اُن کے پیچھے چلیں۔ایرانیوں کے لئے ضروری تھا کہ وہ زرتشت ؑ کے پیچھے چلیں۔اس طرح اگر انہوں نے ایک طرف اپنی اپنی قوم میں اتحاد پیدا کیا تو دوسری طرف مختلف ممالک کے درمیان اختلاف بھی پیدا کر دیا۔یہ صرف خانہ کعبہ ہی ہے جسے یہ خصوصیت حاصل ہے کہ تمام قوموں کو ایک مرکز پر جمع کرنے والا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعویٰ فرمایا کہ آپ ساری دنیا کی طرف مبعوث ہوئے ہیں اور پھر آپ نے یہ بھی دعویٰ فرمایا کہ تمام متفرق قوموں اور جماعتوں کو میرے ذریعے دین واحد پر اکٹھاکر دیا جائے گا۔دیکھو کس عجیب رنگ میں اور کس شان و شوکت سے یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔آخر مختلف اقوامِ عالم کے ایک جگہ جمع کر دینے کی خبر سوائے خدا کے اور کون دے سکتا تھا اور آئندہ جو کچھ مقدّر ہے وہ تو اس سے بھی زیادہ ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعو د علیہ السلام نے بھی یہ دعویٰ فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ میرے ذریعے سب قوموں کو اکٹھا کر دےگا۔اور ایک وقت ایسا آئےگا کہ اشرار چوہڑوں اور چماروں کی طرح رہ جائیں گے۔آپ فرماتے ہیں: ’’شیطان نے آدم ؑ کو مارنے کا منصوبہ کیا تھا اور اس کا استیصال چاہا تھا پھر شیطان نے خدا سے مہلت چاہی اور اُس کو مہلت دی گئی۔اِلٰی وَقْتٍ مَّعْلُوْمٍ (یعنی ایک معلوم وقت تک) بسبب اس مہلت کے کسی نبی نے اس کو قتل نہ کیا۔اُس کے قتل کا وقت ایک ہی مقرر تھا کہ وہ مسیح موعود ؑ کے ہاتھ سے قتل ہو۔اب تک وہ ڈاکوؤں کی طرح پھرتا رہا۔لیکن اب اُس کی ہلاکت کا وقت آگیا ہے۔اب تک اخیار کی قلّت اور اشرار کی کثرت تھی۔لیکن شیطان ہلاک ہو گا اور اخیار کی کثرت ہو گی اور اشرار چوہڑے چماروں کی طرح ذلیل بطور نمونہ کے رہ جائیں گے۔‘‘ (الحکم جلد ۵ نمبر ۳۴ مورخہ ۱۷ ؍ستمبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۱)