تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 448

لوگ کتوں کی طرح مرنے لگے۔آخر اتنی بھاگڑ مچی کہ وہ محاصرہ چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور ہزاروں انسان وادیوں میں بھٹک بھٹک کر مر گئے۔(السیرة النبویۃ لابن ہشام، امر الفیل۔۔۔) غرض اَلْبَیْت میں بتایا ہے کہ حقیقی حفاظت لوگوں کو اِسی گھر کے ذریعہ میسّر آسکتی ہے۔یہ خدا کا گھر ہے جس پر کوئی دشمن حملہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔گھر کی دوسری خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ مستقل رہائش کا مقام ہوتا ہے۔اس لحاظ سے بھی یہی گھر ہے جو اَلْبَیْتکہلانے کا مستحق ہے کیونکہ دائمی زندگی خدا کے گھر میں ہی ملتی ہے۔جو لوگ خدا تعالیٰ کے گھر میں نہیں جاتے اُن کی زندگی کیا زندگی ہے۔دنیوی گھر کے متعلق تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَتَاعٌ قَلِیْلٌ وہ ایک قلیل متاع ہے۔لیکن اپنے گھر کے متعلق فرماتا ہے۔فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ۔وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْ۔(الفجر: ۳۰،۳۱)یعنی جب انسان خدا تعالیٰ کا سچا پرستار بن جاتا ہے اور اُس کا گھر مسجد ہو جاتا ہے تو پھر وہ جنّت میں داخل ہو جاتا ہے۔غرض یہی بیت ہے جو انسان کو ہمیشہ کی زندگی دیتا ہے۔گھر کی تیسری خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے اندر مختلف قسم کے ذخائر اور اموال وامتعہ رکھتا ہے۔اِس نقطۂ نگاہ سے بھی یہی گھر ہے جو رُوحانی برکات کے ذخائر اپنے اندر محفوظ رکھتا ہے۔کیونکہ اورذخائر تو خواہ کتنے بھی قیمتی ہوں ضائع ہو جاتے ہیں لیکن جو وقت عبادت الہٰی میں خرچ ہوتا ہے وہ ضائع نہیں جاتا بلکہ ایک ایک لمحہ جو ذکر الٰہی اور عبادت میں بسر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اُسے ہزاروں ہزار انعامات کے ذخائر کی صورت میں محفوظ رکھتا اور اپنے بندے کو اس سے متمتع فرماتا ہے۔گھر کی چوتھی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ رشتہ داروں کے جمع ہونیکی جگہ ہوتی ہے۔یہ خصوصیت بھی خانہ کعبہ میں بدرجہ اَتَم پائی جاتی ہے۔کیونکہ تمام دنیا کے مسلمان وہاں ہرسال حج کے لئے جمع ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے مل کر اپنے ایمان تازہ کرتے ہیں اور پھر اس لحاظ سے بھی خانہ کعبہ سب لوگوں کے جمع ہونے کی جگہ ہے کہ وہ جگہ جہاں انسان اپنے تمام رشتہ داروں سے مِل سکے گا صرف جنّت ہے اور جنّت کاظل مسجد ہوتی ہے جس میں پانچوں وقت تمام مسلمان جمع ہو کر خدا تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے حالات سے بھی با خبر رہتے ہیں۔پھر گھر کی یہ خصوصیتکہ اس میں انسان کو ہر قسم کا امن حاصل ہوتا ہے یہ بھی خانہ کعبہ کو میّسر ہے۔کیونکہ امن اسی صورت میں میّسر آتا ہے جب تمام جھگڑے مٹ جائیں اور خانہ کعبہ ہی ایک ایسا مقام ہے جو توحید کا مرکز ہونے