تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 447
ایبے سینیا کی عیسائی حکومت کی طرف سے یمن کا گورنر مقرر تھا۔اس نے چاہا کہ خانہ کعبہ کو تباہ کر دے اور عربوں کو مجبور کرے کہ وہ بیت اللہ کی بجائے صَنْعَاء کے گر جا کا حج کیا کریں۔تاکہ عیسائیت کو فروغ حاصل ہو۔جب وہ اپنے لائو لشکر کے ساتھ مکہ کے قریب پہنچا۔تو اُس نے ایک خاص آدمی مکّہ والوں کی طرف بھجوایا۔اور اُسے یہ پیغام دیا کہ میں صرف خانہ کعبہ کو گرانے کے لئے آیا ہوں۔تمہارے ساتھ میری کوئی دشمنی نہیں۔اس لئے اگر تم میرے ارادہ میں مزاحم نہ ہو تو میں تمہیں کچھ نہیں کہو ںگا اور کعبہ کو گرا کر واپس چلاجاؤںگا۔وہ شخص جب مکّہ پہنچا۔تواُس نے دریافت کیا کہ مکہ والوں کا آجکل سردار کون ہے۔انہوں نے حضرت عبدالمطلب کا نام لیا۔وہ آپ کے پاس آیا اور اس نے ابرہہ کا پیغام دیا۔حضرت عبدالمطلب نے اُسے جواب دیا کہ اگر اس کی ہم سے لڑنے کی نیت نہیں تو ہم بھی اُس سے لڑنا نہیں چاہتے بلکہ ہم میں تو اُس سے لڑائی کی طاقت ہی نہیں۔باقی اس گھر کے متعلق ہمارایہ عقیدہ ہے کہ یہ خدا کا گھر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا وعدہ کیا ہوا ہے۔پس اگر اللہ تعالیٰ اس گھر کو بچانا چاہے تو یہ اُس کا کام ہے ہم میں ابرہہ اور اُس کے لشکر کے مقابلہ کی کوئی طاقت نہیں۔اس پر اُس شخص نے کہا کہ اگر آپ لوگ لڑنا نہیں چاہتے تو بہتر ہے کہ آپ میرے ساتھ چلیں اور ابرہہ سے ملاقات کر یں۔ابرہہ نے بھی خواہش کی تھی کہ میں مکہ کے کسی رئیس کو اپنے ساتھ لاؤں۔اِس سے اُس کا دل خوش ہو جائے گا اور ممکن ہے کہ وہ خانہ کعبہ کو گرانے کا ارادہ ہی ترک کر دے۔اس پر حضرت عبد المطلب نے بعض رؤساء اور اپنے لڑکوں کو ساتھ لیا اور ابرہہ کی ملاقات کے لئے چل پڑے۔ابرہہ آپ سے مل کر بڑا متاثر ہوا اور اُس نے کہا کہ مجھے آپ سے ملاقات کر کے بڑی خوشی ہوئی ہے۔آپ فرمائیں کہ آپ کی اس ملاقات کا مقصد کیا ہے ؟ حضرت عبدالمطلب نے کہا۔کہ آپ کے لوگ چھاپہ مار کر کچھ اونٹ لوٹ لائے ہیں جن میں میرے بھی دو سو۲۰۰ اونٹ ہیں وہ مجھے واپس دلا دیئے جائیں۔یہ سن کر اُسے غصہ آگیا اور کہنے لگا۔میں نے تو آپ کو بڑا عقلمند سمجھا تھا اور میرا خیال تھا کہ آپ مجھ سے یہ کہیں گے کہ میں خانہ کعبہ پر حملہ نہ کروں مگر آپ نے خانہ کعبہ کا نام تک نہیں لیا اور اپنے دو سو ۲۰۰اونٹوں کا مطالبہ کر دیا ہے حالانکہ خانہ کعبہ کے مقابلہ میں دو سو اونٹوں کی حیثیت ہی کیا تھی کہ آپ اس کا ذکر کرتے۔حضرت عبدالمطلب نے بیساختہ جواب دیا کہ اگر عبدالمطلب کو اپنے دو سو اونٹ کی فکر ہے تو کیا خدا تعالیٰ کو اپنے گھر کی حفاظت کا فکر نہ ہو گا۔وہ آپ اس کی حفاظت کرے گا۔مجھے تو صرف اپنے اونٹوں کی ضرورت ہے۔ابرہہ یہ سُن کر طیش میں آگیا اور اُس نے اونٹ تو واپس کر دئیے مگر بیت اللہ پر حملہ کرنے کا ارادہ زیادہ مضبوط کر لیا۔ابھی اُس نے حملہ نہیں کیا تھا کہ تمام فوج میں چیچک کی بیماری پھوٹ پڑی اور