تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 446
بے معنی نہیںہوتا بلکہ معنوں پر زیادہ زور دینے کےلئے لایا جاتا ہے۔اور اُسے زائدہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ عام طور پر استعمال نہیں کیا جاتا۔اس جگہ وَاتَّخِدُوْا پر زور دیا ہے کیونکہ یہ فعل کے معنوں میں شدّت پیدا کر دیتا ہے۔مُصَلًّی : جائے نماز کو کہتے ہیں۔عَھدَ : کے معنے ہیں اَوْصَاہُ وَشَرَطَ اِلَیْہِ۔(اقرب)اُسے تاکید کی اور اُس کی پابندی اُس کے لئے ضروری قرار دی۔مفرداتِ راغب میں لکھا ہے۔اَلْقٰی اِلَیْہِ الْعَہْدَ وَاَوْصَاہُ بِحِفْظِہٖ۔یعنی اُسے عہد سے واقف کیا اور اس عہد کی حفاظت کی۔اُسے تاکید کی۔پس اِس کے معنے یہ ہیںکہ ہم نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیھما السلام کو وصیت کی اور اس کی پابندی اُن پر فرض کی۔رُکَّعٌ۔رَاکِعٌ کی جمع ہے اور رکوع کے معنے رکوع کرنے یا توحید پر چلنے کے ہوتے ہیں۔(مفردات) سُجُوْدٌ۔سَاجِدٌ کی جمع ہے۔اس کے معنی (۱)سجدہ کرنے والے (۲)کامل فرمانبردار کے ہوتے ہیں۔(اقرب) طَائِفٌ۔جو شخص بار بار کسی جگہ آئے یااس کے گرد چکر لگائے وہ طائف کہلاتا ہے۔(مفردات) عَاکِفٌ۔بیٹھنے والا۔جو دھرنا مار کر بیٹھ جائے۔اِسی سے اعتکاف نکلا ہے۔(مفردات) تفسیر۔اَلْبَیْت خانہ کعبہ کا نام ہے۔اسے اَلْبَیْت اس لئے کہتے ہیں کہ اِس میں بیت کے تمام خواص جمع ہیں۔جیسے کہتے ہیں زَ یْدُنِ الرَّجُلُ زید ہی آدمی ہے۔اورمراد یہ ہوتی ہے کہ ایک معقول آدمی کے اندر جس قدر خوبیاں پائی جانی چاہئیں وہ سب کی سب زید میں پائی جاتی ہیں۔پس خانہ کعبہ ہی گھر ہے کا مطلب یہ ہے کہ گھر کی جو خصوصیتیں ہوتی ہیں وہ سب کی سب صرف اِسی گھر سے حاصل ہوتی ہیں۔گھر کی کیا خصوصیات ہوتی ہیں۔گھر کی یہ خصوصیات ہوتی ہیں کہ (۱)گھر مستقل رہائش کی جگہ ہوتی ہے (۲)گھر چوری اور ڈاکہ سے حفاظت کا ایک ذریعہ ہوتا ہے (۳)گھر امن کا مقام ہوتا ہے جس میں داخل ہو کر انسان ہر قسم کے مصائب سے نجات پا جاتا ہے (۴)گھر تمام قریبی رشتہ داروںاور عزیزوں کے جمع ہونے کی جگہ ہوتا ہے (۵)گھر انسان کے مال و متاع کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔اِن پانچ خصوصیتوں کے لحاظ سے اگر غور کیا جائے تو در حقیقت خانہ کعبہ ہی اصل گھر ہے۔کیونکہ اگر حفاظت کو لو تو بڑے بڑے قلعوں کو لوگ تباہ کر دیتے ہیں۔بڑے بڑے شہروں میں رہنے والوں کولوگ تباہ کر دیتے ہیں۔مگر خانہ کعبہ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اسے خدا تعالیٰ کی دائمی حفاظت حاصل ہے۔اور ہر شخص جو اس پر ہاتھ اٹھانا چاہے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ کو شل کر دیتا ہے۔چنانچہ ابرہہ کی مثال اِس بارہ میں ایک زندہ جاوید مثال ہے۔ابرہہ جو