تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 401

فرماتا ہے کہ مسلمانوں کا مستقبل محفوظ ہے۔ان کو کوئی قوم نقصان نہیں پہنچا سکتی اور اُن کی ماضی بھی اُن کو کبھی پریشان نہیں کر سکتی۔اگر اللہ تعالیٰ ماضی معاف نہ کرتا تو انہیں فکر ہی لگی رہتی کہ ہم نے تیس، چالیس، پچاس، ساٹھ یا سو سال کی عمر ضائع کر دی اور نافرمانیاں کرتے رہے۔مگر اِدھر وہ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ پر عمل کرتا ہے اور اسلام میں داخل ہوتا ہے اور اُدھر اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔گویا مومن کی ماضی اُسے کبھی پریشان نہیں کر سکتی۔کیونکہ وہ ایمان لانے کے بعد ایسا ہو جاتا ہے جیسا کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والا بچہ۔اگر بعد میں وہ کسی گناہ کا ارتکاب کرے گا تو بے شک وہ اس کے نامۂ اعمال میں لکھا جائیگا۔مگر توبہ کے بعد پچھلے تمام گناہ مٹ جاتے ہیں۔غرض اس آیت میں بتایا کہ جو شخص خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کر لے اور مخلوقِ خدا پر بھی اس کے احسان کا دائرہ وسیع ہو اُسے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ حُزن۔کیونکہ ایسا شخص خدا تعالیٰ کی پناہ میں آجاتا ہے۔خوف اس شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔جو یا تو آخرت پر قطعی طور پر ایمان نہیں رکھتااور سمجھتا ہے کہ جب مر گئے تو خاک ہو جائیں گے اس لئے وہ موت سے ڈرتا ہے اور چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے عیش کے دنوں کو لمبا کرے اور یا پھر خوف اس شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے جو مرنے کے بعد آنیوالی زندگی پر ایمان تو رکھتا ہے مگر اس کے مطابق عمل نہیں کرتا۔وہ ڈرتا ہے کہ اگر میں مر گیا تو خدا کو کیا جواب دوں گا۔لیکن وہ جو آخرت پر سچا ایمان رکھتا ہے اور اُس ایمان کے مطابق اعمال بھی بجا لاتا ہے اُس کے دل میں کوئی خوف نہیں رہتا۔دوسری چیز حُزن ہے۔خوف آئندہ کے متعلق ہوتا ہے لیکن حُزن ماضی کے متعلق ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو لوگ سچے مومن ہوں اُن کی دوسری علامت یہ ہوتی ہے کہ انہیں حُزن بھی نہیں ہوتا۔ایک صدمہ ایسا ہوتا ہے جو اِتّصال اور محبت کی وجہ سے کسی چیز کے ضائع ہونے پر ہوتا ہے۔اس صدمہ کو محسوس کرنے اور اس کے اظہار سے خدا نے منع نہیں فرمایا۔لیکن حُزن یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی گزشتہ کوتاہیوں کو دیکھتے ہوئے خیال کرے کہ اللہ تعالیٰ اُس کی کوئی تائید نہیں کرے گا۔فرماتا ہے جسے خدا پر کامل ایمان ہو حُزن اس کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔کیونکہ وہ اپنے خدا کی محبت اور اُس کی قدرتوں پر کامل یقین رکھتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ خدا اپنے مخلص بندوں کو کبھی ضائع نہیں کیا کرتا۔ترتیب و ربط: گزشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے اس منصوبہ کا ذکر کر کے جو وہ غیر سلطنتوں سے کرتے تھے آیت۱۰۵و۱۰۶ میں اُن کے دوسرے منصوبہ کا ذکر کیا جو وہ خود مسلمانوں میں بدامنی پیدا کرنے کے لئے کر رہے تھے اور چاہتے تھے کہ کسی طرح مسلمان گستاخی میں مبتلا ہو کر انعاماتِ الٰہیہ سے محروم ہو جائیں آیت۱۰۷ میں بتایا کہ ہم کسی کلام کو منسوخ کرتے ہیں تو اُس سے بہتر لاتے ہیں۔پس یہود سوچیں کہ کیا موسیٰ ؑ اور دیگر انبیاء پر جو