تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 392
بغیر نجات نہیں مگر جہاں اسلام یہ کہتا ہے کہ اسلام ہی بنی نوع انسان کی نجات کا ذریعہ ہے۔وہاں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہدایت کے دروازہ کو بند نہیں کرتا۔بلکہ کہتا ہے کہ وَبِا لْاَخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ۔یعنی مومنوں کی یہ علامت ہے کہ جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی تازہ کلام نازل ہو وہ فوراً اُس پر ایمان لے آتے ہیں۔پس وہ نجات کو کلامِ الہٰی پر ایمان لانے کے ساتھ وابستہ قرار دیتا ہے۔خواہ وہ کلام کسی پہلے زمانہ میں نازل ہو چکا ہو یا آئندہ نازل ہو۔اس کے مقابلہ میں عیسائیوں اور یہودیوں میں سے یہودی کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے بغیر نجات نہیں اور وہ اپنے مذہب میں کسی کو داخل بھی نہیں کرتے۔کیونکہ وہ دوسروں میں سے کسی کی نجات کے قائل نہیں۔وہ صرف اپنی قوم کے ساتھ نجات کو مخصوص کرتے ہیں نہ کہ اپنے مذہب کے ساتھ لیکن عیسائی اپنی قوم کے ساتھ نجات مخصوص نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے مذہب کے ساتھ اُسے مخصوص کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دوسروں میں سے ہر شخص عیسائیت میں داخل ہو کر نجات پا سکتا ہے گویا عیسائیت کو اسلام سے ایک ظاہری مشابہت یہ حاصل ہے کہ عیسائی بھی تمام دنیا کے لوگوں کو اپنے مذہب میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں اور ہدایت کو کسی خاص قوم سے مخصوص نہیں کرتے اور اسلام بھی تمام دنیا کے لوگوں کو اپنے اندر شامل ہونے کی دعوت دیتا ہے اور ہدایت کو کسی خاص قوم سے مخصوص نہیں کرتا۔اور چونکہ ان دونوں میں یہ ایک ظاہری مشابہت پائی جاتی ہے۔اس لئے اعتراض ہو سکتا ہے کہ اگر عیسائیوں کا یہ کہنا کہ صرف عیسائی مذہب میں نجات ہے قابل اعتراض ہے تو اسلام کا یہ کہنا کہ صرف اسلام میں نجات ہے کیوں قابلِ اعتراض نہیں؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام اور عیسائیت کے اِن دعووں میں جو ظاہری مشابہت پائی جاتی ہے وہ درحقیقت کوئی حقیقی مشابہت نہیں بلکہ ایک خود ساختہ مشابہت ہے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ گو عیسائی تمام دنیا کے لوگوں کو اپنے مذہب میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں مگر اُن کا مذہب اُن کو غیر مذاہب کے لوگوں کو اپنے اندر شامل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔اس کا ثبوت ہمیں اناجیل سے واضح طور پر نظر آتا ہے۔متی باب۷ آیت۶ میں لکھا ہے۔’’وہ چیز جو پاک ہے کتوں کو مت دو۔اور اپنے موتی سؤروں کے آگے نہ پھینکو ایسا نہ ہو کہ وے انہیں پامال کریں اور پھر کر تمہیں پھاڑیں۔‘‘ اس حوالہ میں بتایا گیا ہے کہ مسیح ؑناصری کی معرفت جو تعلیم تم لوگوں کو ملی ہے وہ موتیوں کی طرح ہے۔وہ صرف اسرائیلیوں کے لئے رہنی چاہیے۔اسے غیر قوموں کے سامنے نہیں رکھناچاہیے۔کیونکہ بقول انجیل غیر قومیں سؤروں اور کتوں کی طرح ہیں۔اگر یہ تعلیم اُن کے سامنے گئی تو وہ اُسے توڑ کر ردّی کی طرح پھینک دیں گی۔اور اس کے غلط