تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 393
معنے کرکے اس پر حملہ کریںگی اور اس کی ہتک کا ارتکاب کریں گی۔(۲) متی باب۱۰ آیت۵،۶ میں لکھا ہے۔’’ان بارھوں کو یسوع نے فرما کے بھیجا کہ غیر قوموں کے طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ پہلے بنی اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جائو۔‘‘ اِس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ؑ نے اپنے حواریوں کو صرف بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے لئے ہی بھیجا تھا۔اور انہیں واضح طور پر یہ ہدایت دی تھی کہ غیر اقوام کو تبلیغ نہ کریں۔اس جگہ عیسائی ایک لفظ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہاں ’’پہلے‘‘ کا جو لفظ استعمال کیا گیا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی زمانہ میں صرف اسرائیلیوں تک تبلیغ محدود ہو گی۔مگر آئندہ زمانہ میں انہیں اپنی تبلیغ وسیع کرنے کی اجازت ہو گی۔لیکن اسی باب کی آیت۲۳ اس مفہوم کو ردّ کر دیتی ہے۔اُس میں لکھا ہے۔’’میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم اسرائیل کے سب شہروں میں نہ پھر چکو گے جب تک کہ ابن آدم نہ آئے۔‘‘ اِس میں حضرت مسیح ؑ کہتے ہیں کہ میں تم کو یہ بتا دیتا ہوں کہ میری آمد ثانی تک تمہاری یہ تبلیغ غیروں میں شروع نہیں ہوگی اور جب تک کہ ابن آدم دوبارہ دنیا میں نہ آئے تمہارا یہ مشن جو بنی اسرائیل میں قائم کیا گیا ہے ختم نہیں ہو گا۔ہاںجب وہ آجائے گا تو پھر اجازت ہو گی کہ دوسروں کو بھی تبلیغ کی جائے۔پس’’پہلے ‘‘ کی تشریح اس باب کی آیت نمبر۲۳ نے کردی ہے۔اسی طرح متی باب۱۵ آیت۲۴ میں لکھاہے:۔’’اُس نے جواب میں کہا۔میں اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی پاس نہیں بھیجا گیا۔‘‘ یہاںحضرت مسیح ؑ اس بات کا صاف طور پر اقرار کرتے ہیں کہ میں اسرائیلیوں کے سوا کسی اور کی طرف نہیں بھیجا گیا۔پس پہلے اور بعد کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اِسی طرح مرقس باب۷ آیت ۲۷ میں آتا ہے:۔’’یسوع نے اُسے کہا کہ پہلے فرزندوں کو سیر ہونے دے۔کیونکہ فرزندوں کی روٹی لے کے کتوں کے آگے ڈالنا لائق نہیں۔‘‘