تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 391
مانتے ہیں اور بعض ڈر اور خوف سے مانتے ہیں۔عذاب کا ڈر ادنیٰ درجہ کے لوگوں کے لئے ہوتا ہے جو انہیں ناشائستہ حرکات سے روکتا ہے۔لیکن اعلیٰ درجہ کے لوگوں کے لئے احسان اور محبت ہوتی ہے جو ان کو اس قسم کی حرکات سے باز رکھتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ایسے ادنیٰ درجہ کے لوگ ہیں کہ یہ صرف عذاب سے ہی ڈر سکتے تھے۔مگر ان کی قوم نے ان سے کہا کہ تم عذاب سے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیئے گئے ہو۔اس لئے ان کے دلوں سے عذاب کا خوف نکل گیا۔جس کی وجہ سے یہ حیاسوز حرکات کرتے ہیں۔اگر انسان کسی مذہب سے تعلق نہ رکھتا ہو تو پھر بھی وہ مادر پدر آزاد ہو سکتاہے مگر یہ باوجود مذہبی آدمی ہونے کے ایسی حرکات کرتے ہیں جو مادر پدر آزاد بھی نہیں کرتے۔دوسری آیت میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ جو قومیں انعامات الہٰیہ کو اپنے ساتھ مخصوص کر لیتی ہیں وہ ہدایت کی جستجو بھی ترک کر دیتی ہیں۔ہدایت کی جستجو کوئی قوم تبھی کرتی ہے جب وہ یہ یقین رکھتی ہو کہ ہدایت اور انعامات کا دروازہ کھلا ہے۔لیکن جو قوم یہ یقین رکھتی ہو کہ ہدایت صرف ہماری ہی قوم کے ساتھ مخصوص ہے وہ تو صرف انہی باتوں کو جو اُن کی کتابوں میں لکھی ہوںدرست سمجھے گی اور دوسری طرف نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھے گی۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قوم نجات کو صرف اپنے تک محدود کر کے اُسے تنگ کر دیتی ہے اور اس میں ناواجب ضِد پیدا ہو جاتی ہے جو اُسے تقویٰ سے دُور لے جاتی ہے۔زیر تفسیر آیت میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ اِس قسم کے عقائد کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قومیں دائرہ نجات کو محدود کرتی جاتی ہیں اور پھر آپس میں بھی ایک دوسرے کو نجات سے محروم کر دیتی ہیںاورتقویٰ جو اصل معیار ہے وہ اُن کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے حالانکہ کسی وقت بھی کسی شخص کو ہدایت کا دروازہ بند نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ جو کلام بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو اس کو قبول کر لینے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ھُوْدًااَوْنَصَارٰی کا یہ مطلب نہیں کہ یہود کا یہ کہنا کہ صرف یہودی ہی نجات پائے گا کوئی بُری بات ہے۔کیونکہ ہر مذہب والا اپنے آپ کو ہی نجات یافتہ کہتا ہے بلکہ ایک مسلمان بھی یہی سمجھتا ہے کہ جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوں گے۔پس اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہود اپنے مذہب میں نجات کو کیوں محدود قرار دیتے ہیں یاعیسائی عیسائیت میں نجات کیوں سمجھتے ہیں۔بلکہ مراد یہ ہے کہ یہودیت اور عیسائیت کے ساتھ نجات کو مخصوص قرار دے کر یہ لوگ خدا تعالیٰ کے وسیع فیضان کو محدود کرتے ہیں اور دنیا کے ایک بڑے حصہ کو اُس کی رحمت سے محروم قرار دیتے ہیں۔ورنہ قرآن کریم کا یہ منشاء نہیں کہ اُن کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ یہودیت کے بغیر نجات نہیں یا عیسائیت کے بغیر نجات نہیں۔اسلام کا بھی تو یہی دعویٰ ہے کہ اس کے